صحافی ،صحافت اور سید بدر سعید کی کتاب۔۔۔#تحریر:اختر سردار چودھری


  • منگل
  • 2016-10-11
صحافت کا خاص طور پر اردو صحافت کا علمی، ادبی،تعلیمی، ثقافتی اور تہذیبی پہلو بھی ہے۔ہم عام طور پرعلمی پہلو کو دیکھیں تو اخبار ہی واضح دیکھا جاسکتا ہے۔جس میں علم کے حوالے سے بہت ساری معلومات میسر ہوتی ہیں۔صحافت کی زبان کے بھی تین پہلو ہوتے ہیں پہلا علمی،دوسرا ادبی اور تیسرا مواصلاتی یعنی عام بول چال، اس لئے اردو صحافت کی زبان معیاری،بے مثال،خوبصورت اور نمایاں ہوتی ہے۔صحافت کی کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں اور اتنی نئی بھی نہیں ہے۔ جب صحافت کی بات ہو تو اکبر الٰہ آبادی کا یہ شعر یاد آتا ہے۔ کھینچوں نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو جب توپ مقابل ہوتو اخبار نکالو آج کی صحافت ہے بھی اسی طرح کی، جس کو بھی کسی صحافی بھائی سے پریشانی کا سامنا ہو تووہ بھی فوری یا تو کسی اخبار کی نمائندگی لے لیتا ہے اگر استطاعت رکھتا ہو تو وہ اخبار نکال لیتا ہے۔ صحافت اور سیاست کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ دنیا بھر میں بہت سارے سیاست دان ایسے بھی گزرے ہیں جنہوں نے صحافت میں خوب نام کمایا اور بہت سارے صحافیوں نے بھی سیاست میں قدم رکھا عملی کام کر کے اپنا ایک نام بنایا۔ یہ کیسا قانونِ زباں بندی ہے تیری محفل میں یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری صحافی کا کام ہے سچ بولنا اور لکھنا، وقت کے حا کم کے ڈر اور خوف سے خاموش نہیں رہنا چائیے بلکہ ڈٹ کر مقابلہ کرنا چائیے۔سماجی، سیاسی معاشرتی ترقی میں کلیدی کرداربھی صحافی ہی ادا کرتے ہیں۔ اور عوام تک سچائی پہنچانے کے لئے،اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران اپنی جان تک لڑا دیتے ہیں۔ راقم الحروف نہ تو بڑا صحافی ہے اور نہ ہی اتنا بڑا کالم نگار،صرف ادب اور ادیب سے لگاؤ،صحافی اور صحافت سے وابستہ ضرور ہے۔ میں صرف یہ کہوں گا کہ صحافی کو سچ بولنا چائیے،سچ ہی آزادی صحافت کی نشانی اور پہچان ہے،صحافت مقدس پیشہ، معاشرے کی تیسری آنکھ ہے اور جمہوریت کا چوتھا ستون بھی صحافت ہی کو مانا جاتا ہے۔ اردو کے ترقی پسند شاعر فیض احمد فیض نے شائد صحافتی برادری کیلئے ایک بڑی انقلابی نظم کہی ہے۔اس کا ہر ایک لفظ دل ودماغ میں اترجاتا ہے اور جسم وجان میں ایک جوش وولولہ کی ایک نئی روح پھونک جاتا ہے۔ بول کہ لب آزاد ہیں تیرے بول کہ زباں اب تک تیری ہے کتابوں میں عوام الناس کو ادب، صحافت، سیاست، سماجیات، نفسیات، کامرس، مملکت، عالمی حالات، مشرق و مغرب،سیاست اور معاشرتی،سماجی مسائل کی عکاسی مل جاتی ہے۔کتابیں سیاسی، سماجی، ثقافتی روحانی، تہذیبی شعور اور ذہن کو بالیدگی عطا کرتی ہیں اور ذہنوں کی آبیاری کرتے ہیں۔ سید بدر سعید کی کتاب صحافت کی ایک مختصر تاریخ ہے،جس میں پاکستان سمیت برصغیر پاک وہند کی صحافت کے ارتقائی عمل کا مکمل طور پر احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے۔یہ کتاب 288صفحات پر مشتمل ہے۔ جس میں صحافت کی مختصر تاریخ،نئی اور سابقہ جمہوریت کا سفر،پاکستان کی تاریخ کے سیاہ ترین دنوں، جمہوری دہائی کے دوران صحافت کا سفر،ذرائع ابلاغ اور سیاسی جماعتیں،الیکٹرانک میڈیا،پاکستان میں ذرائع ابلاغ کے قوانین پاکستان صحافیوں کے لیے ایک غیر محفوظ ملک،معاشرے میں بنیادی پرستی کا بڑھتا ہوا رجحان اور متوازی ذرائع ابلاغ کا ظہور اور ویج بورڈ کے لیے جدوجہد جیسے اہم موضوعات سمیت بہت کچھ شامل ہے