سی پیک ۔ چین کی بالادستی کا خوف۔ تحریر : صبا ممتاز بانو


  • ہفتہ
  • 2018-08-04
نقش صبا 2013میں شروع ہونے والے پاک چائینااقتصادی راہداری تجارتی منصوبے کامقصد جنوب مغربی پاکستان سے چین کے شما ل مغربی خود مختار علاقے سنکیانگ تک گوادر بندر گاہ، ریلوے اور موٹر وے کے ذریعے تیل اور گیس کی کم وقت میں ترسیل کرنا ہے۔۔اس منصوبے کے ذریعے کراچی اور سندھ کی علیحدگی کی تحریکوں کو جڑ سے اکھاڑنے میں مدد ملے گی۔گوادر سے کاشغر تک تقریباً ۲۴۴۲ کلو میٹر طویل اس شاہراہ پر ۶۴ بلین ڈالر لاگت آئے گی۔ یہ دراصل اکیسویں صدی میں شاہراہ ریشم میں توسیع ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل ۰۳۰۲ تک متوقع ہے۔ لاہور تا کراچی موٹر وے کے علاوہ ہزارہ موٹر وے بھی اس کے اہداف کا حصہ ہے۔ایران پاکستان گیس پائپ لائن پر بھی کام جاری ہے۔ ایران اپنے حصے کا کام مکمل کر چکا ہے۔ بن قاسم بندرگاہ کی تعمیر بھی اس منصوبے کی کاوش ہے۔ علاوہ ازیں گوادر ہوائی اڈہ، گوادر نواب شاہ ایل این جی ٹرمینل پائپ لائن پراجیکٹ وغیرہ پر بھی کام جاری ہے۔ ۔۹۰۰۲ میں اس منصوبے پر کام کرنے کے لئے آنے والے چینیوں کی تعداد دس ہزار تھی جو کہ بڑھ کر۵۱۰۲ میں بڑھ کر پندرہ ہزار ہو گئی۔اب اس تعداد میں مزید اضافہ متوقع ہے۔لیکن یہ صورت حال اس وقت انتہائی مخدوش ہو جاتی ہے جب ہمارے چینی دوستوں کو ڈرایا دھمکایا جاتا ہے۔ تاکہ ان کو کام کرنے سے روکا جاسکے۔ ہم ابھی تک اس قوم کی طرح ہیں جو کہ آگے جانے والے گھوڑوں کے پاؤں سے اٹھنے والی گرد میں اپنی آنکھوں کو کھولنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ہم ترقی کے پاؤں کی ٹاپوں سے اٹھنے والے دھویں میں اپنے چہرے تو کالے کر ررہے ہیں مگر گھوڑوں کی لگاموں کو کس کر اس پر سوا ر ہونے کی کوشش نہیں کرتے۔۔ ہمیشہ وہی منصوبے کامیاب ہوتے ہیں جن کی بنیاد دو طرفہ مفادات پر رکھی جاتی ہے۔ چین کی بالادستی کا خوف کچھ اذہان پرسوار ہے۔ بحری بیڑے کا انتظار کرنے والی اور راکٹ کے حصول میں ناکام ہو جانے والی قوم کی فرسٹریشن کو بھی ہم کسی طور ناجائز نہیں کہہ سکتے۔ جو آپ کے ساتھ بیتتا ہے۔ وہی انسان کے اذہان میں شک کے ساؤں کو پروان چڑھاتا ہے۔ لیکن یہاں ہمیں اس منصوبے کو ذرا ہٹ کر دیکھنا ہوگا۔ یہ مشترکہ منصوبہ دونوں ممالک کی فلاح کا ضامن ہے۔۔ چین تو ہمارا ایسا دوست ہے کہ جس کی ہمارے ساتھ ہمیشہ بنی رہی ہے۔۔ بات اندر کی ہو یا باہر کی،اس نے ہر محاذ پر ڈٹ کر ہمارا ساتھ دیا ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں، اس نے ہمارے دشمنوں کو بھی ہمیشہ واشگاف لہجے میں یہی پیغام بھیجا ہے کہ وہ مشکل کی ہر گھڑی میں پاکستان کے ساتھ ہے۔ چین کی دوسرے ممالک تک رسائی میں پاکستان کی مدد اسے تجارتی دنیا میں اور بھی آگے لاسکتی ہے کیونکہ بنیادی طور پر یہ ایک معاشیات کو استحکام بخشنے والا منصوبہ ہے جس کو بے بنیاد اور غلط افواہوں کے ذریعے نقصان پہنچانے کی کو شش کی جارہی ہے۔یہاں ہمارے میڈیا کو ایک فعال اور مثبت کردار ادا کرتے ہوئے اس منصوبے کی شفافیت کو عوام کے سامنے لانا ہوگا۔ اس سلسلے میں حال ہی میں اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں سی پی این ای اور پاکستان فیڈریشن آف کالمسٹ پی ایف سی کے اشتراک سے ایک سیمینا ر کا انعقاد کیا گیا۔اس سمینار میں اس پراجیکٹ کے حوالے سے غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کی گئی۔اس میں بتایا گیا کہ یہ ایک کرپشن سے پاک منصوبہ ہے جسکی شفا فیت پوری طرح عیاں ہے۔ اسے کسی صورت متنازع نہ ہونے دیا جائے۔ ا س کی تکمیل میں پیش آنے والی رکاوٹیں دراصل ہماری بدقسمتی پر مہر لگائیں گی۔ اسلئے ہمیں نہ صرف خود اس کی معروضیت پر یقین ہونا چاہیے بلکہ ہمیں ہر سطح پر اس عظیم اور کثیر المقاصدمنصوبے کو داد و تحسین پیش کرنا چاہیے۔ یہ منصوبہ انڈیا کے لئے بھی کسی خطرے کا باعث نہیں۔اگر وہ اس منصوبے کا حصہ بنتا ہے تو نہ صرف اسے بھی گوادر پورٹ کے ذریعے استفادہ کرنے کا موقع ملے گا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان ناخوشگواریت کی دھند بھی چھٹنے میں مدد ملے گی۔اس میں شامل ہونے والے ممالک کے لئے روزگار کے مواقع بڑھیں گے۔ بہتر تعلقات کوفروغ حاصل ہوگا۔توانائی کے بحران کا حاتمہ ہوگا۔۔اس منصوبے کے چار اہم اہداف ہیں۔۔اول۔۔ انرجی پراجیکٹس۔ دوم۔ گوادر پورٹ۔ سوم سڑکیں اور چہارم صنعتی زونز۔۶۴ بلین ڈالر میں سے زیادہ تر رقم سرمایہ کاری کی مد میں ہے۔ جس کی وجہ سے پاکستان کو اسکا معاشی بجٹ زیادہ برداشت نہیں کرنا پڑے گا۔یہ اس کے لئے ایک ریلیف پراجیکٹ ہے۔قرض کا حجم دس بلین ڈالر تک ہے جس میں زیادہ حصہ امداد کی شکل میں پاکستان کو فراہم کیا گیا ہے ۔ چینی سفیر نے اس بات کے امکانات کو پوری طرح رد کیا کہ چین پاکستان میں توسیع پسندانہ عزائم رکھتا ہے۔ دوم پاکستان میں آنے والے چینی شہریوں کی کثیر تعداد کام ختم کوجانے کے بعد یہاں رہنے کی بالکل خواہاں نہیں ہے۔چینی سفیر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم یہاں کی معیشت کو نقصان پہنچانے نہیں آئے بلکہ اسے استحکام کی طرف لے جانے آئے ہیں۔ ہم دونوں ممالک کے درمیان درمدات اور برامدات میں متوازن پالیسی کے خواہاں ہیں۔ اس سمینار میں بہت سے حقائق کو واضح کیا گیا لیکن اب یہاں پر ہمارے ارباب اقتدار و اختیار کو کچھ امور کو یقینی اور قطعی خطوط پر لے کر چلنا ہو گا جن میں ایک تو یہ ہے کہ پاکستان کے سامنے ایسٹ انڈیا کا تجربہ ہے جب ایک بظاہر ایک بے ضرر نظر آنے والی کمپنی نے آہستہ آہستہ تمام ہندوستان پر قبضہ کرلیا۔چینی عوام کو ان کے پراجیکٹ مکمل کرلینے کے بعد اس ملک میں رہنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔انہیں اپنی بستیاں آباد کرنے کی بھی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ ہمیں تاریخ کی غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہیے۔ چینی سفیر کی طرح برطانوی باشندوں کا بھی یہی دعوی تھا کہ وہ صرف تجارت کے لیئے آئے ہیں۔ چین برطانیہ سے بھی زیادہ ہمارے لئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ برطانیہ سمندر پار تھا۔ چین ہمارا ہمسائیہ۔ ہمسائے کا قبضہ کر لینا بہت آسان ہوتا ہے۔ وہ چھت پھلانگ کر بھی آسکتا ہے۔ چین پاکستان کا دوست ہے۔ لیکن کوئی بھی دوست ایسے منصوبوں پر سرمایہ کاری نہیں کرتا جس میں اس کا اپنا فائدہ نہ ہو۔ اس منصوبے میں چین کا بھی بہت زیادہ فائدہ ہے۔اس لئے اس کا قرض کی مد میں پاکستان کو رقم دینا چے جائیکہ جب کہ اس راہداری سے وہ بھر پور فائدہ بھی اٹھا ئے گا۔پاکستان کے علاوہ دوسرے ممالک تک رسائی حاصل کرے گا اور ان کی منڈیوں کو فتح کرے گا۔ ہمیں اس بات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا کہ ہمارے ہاں چینی اشیا کی کھپت ہے۔ جس نے پاکستانی اشیا کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ ہم ان چینی اشیا کی وجہ سے اپنی بہت سی گھریلو اور سمال انڈسٹریز سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ یہ چینی اشیا ہماری اشیا سے بہت کم تر درجے کی ہیں۔ یہاں کے عوام ان کے معیار سے ہرگز مطمئن نہیں کیونکہ چین نے جو ہر چیز کے کئی کئی سٹینڈرڈمتعارف کرائے ہیں۔ان کی وجہ سے غیر معیاری اشیا کی بہتات بہت زیادہ ہو گئی ہے۔ اس لئے ہمیں ایسی کسی بھی پالیسی سے احتراز کرنا ہوگا جو ہمارے چھوٹے بڑے صنعت کاروں کو نقصان پہنچائے۔ہماری اشیا کی مارکیٹ کو کم کرے۔ یہ کوئی دانش مندی نہیں ہوگی کہ ہم اپنی ملکی اشیا کو خسارے میں ڈال کر چین سے منگوائیں۔ چینی اشیا کا سستا ہونا بھی اب لوگوں میں اپنا تاثر کھوتا جارہا ہے کہ مہنگا روئے کئی بار۔سستا روئے کئی بار۔ جن لوگوں کو یہ خدشات ہیں کہ یہ منصوبہ چین کو پاکستان پر تسلط کو موقع فراہم کرے گا۔ پاکستان چین کی کالونی بن کر رہہ جائے گا تو ان کوایک محب وطن پاکستانی کی حیثیت سے یہ سوچنے کا پورا حق حاصل ہے۔لیکن ہمیں پاک چین تعلقات کی تاریخ پر بھی نظر ثانی کرنی ہوگی۔چین پر الزام تراشی کی بجائے حقائق کو مدنظر رکھنا ہوگا۔جن کے مطابق ابھی تک چین نے اپنی اشیا اور تجارتی اہداف کو ہماری منڈیوں تک پھیلانے کے علاوہ کوئی ایسا کام نہیں کیا کہ جو ہمارے اذہان کو چین کی طرف سے مشکوک کردے۔ چین ایک امن پسند ملک ہے۔چینی باشندوں کی شریف النفسی پر بھی کوئی شک نہیں کیا جا سکتا پھر کیا وجہ ہے کہ ہم اپنے اس منصوبے کو بدگمانی کی نظر کردیں جو چین سے زیادہ ہمارے فائدے کے لئے ہے کہ توانائی بحران کا شکا ر ہم ہیں۔۔ چین نہیں۔۔ ہماری عوام روزگار کے ہاتھوں خود کشیا ں کر رہی ہے۔ چین کی نہیں۔ ہمارے ہاں انفرا سٹرکچر بھی بدحالی کا شکار ہے۔ جبکہ چین دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہے۔ چین کا مضبوط کندھا ہمیں ان مسائل سے نجات دلا سکتا ہے اور ایک خوشحال قوم بنا سکتا ہے۔