خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی: تحریر شبانہ برکت


  • جمعرات
  • 2018-04-12
ایک برازیل کا تاجر امریکہ آتا جاتا رہا تھا اس نے دیکھا کہ کہ ہر بندے کی ٹوپی ،ٹائی ،جوتے اور جرابیں اتار کر تلاشی لی جا رہی ہے۔ تلاشی دینے والوں کا ایسا منظر اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔جب اسکی باری آئی اور امیگریشن والوں نے اسے بھی جوتے اتارنے کا حکم دیا۔اس نے یہ آرڈر ماننے سے انکار کر دیا۔امیگریشن افسر نے اسکا پاسپورٹ لیا اور اس پر ڈی پورٹ کی مہر لگا دی ۔وہ اگلی فلائیٹ سے واپس برازیل پہنچ گیا۔اس نے پریس کانفرنس بلائی اور تمام ماجرا سب کو سنا دیا۔اس پریس کانفرنس نے طوفان برپا کر دیا۔حکومت نے امریکہ کے سفیر کو بلا کے سب کچھ بتا دیا۔امریکہ نے اسے معمول کی کاروائی سمجھا معاملہ پارلیمنٹ میں چلا گیا ۔پارلیمنٹ نے فیصلہ کیا کہ جو بھی امریکی برازیل میں قدم رکھے اس کی تفصیلی تلاشی لی جائے۔ا گلے دن اس قانون پر عملدرامد شروع ہو گیا۔امریکی حکومت نے اس پر شدید احتجاج کیا،برازیل نے خوبصورت جواب دیا اس نے کہا یہ ہماری معمول کی کاروائی ہے۔2002 سے 2006 تک برازیل دنیا کا واحد ملک تھا جس کے ائیر پورٹس پر صرف ایک ملک کے شہریوں کی تلاشی ہوتی تھی اور وہ ملک تھا امریکہ۔امریکہ نے بلاآخر معافی مانگی اور یہ سلسلہ ختم ہوا ۔۔اس کو کہتے ہیں غیرت مندی۔۔۔۔ جبکہ ہمارے وزیراعظم کی جو جامہ تلاشی لی گئی اس پر ہمارے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی احتجاج تو دور کی بات ہم گلہ بھی کرنے کے قابل نہ رہے۔ آخر وہ دن کب آئے گا جس دن ہم بھی گردن اٹھا کر دنیا کے سامنے چلیں گے ایسا لیڈر کہاں سے آئے گا کون لائے گا۔ خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ھو جسکو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا