سماجی خدمت کا یہ جنون یقنا قابل تقلید ہے :بجلی کا جھٹکا بھی 'منے بھارتی کے 'انسانی خدمت کے جذ بے کو متزلزل نہ کر سکا


  • جمعرات
  • 2016-09-08
"جینا تو ہے اسی کا جس نے یہ راز جانا -- ہے کام آدمی کے اوروں کے کام آنا " یہ نغمہ اکثر ریڈیو یا ٹی وی پر سن کر ہم سب بے اختیارساتھ ساتھ گنگنانے لگتے ہیں ، گانے کے یہ بول فلم ادھیکار کے ہیں جسے محمد رفیع صاحب نے اپنی مسحور کن آوازسے ہم تک پہونچایاہے، یہ نغمہ کانوں میں پڑتے ہی ہم سب یک لخت انسانوں کی خدمت کے جذ بے سے سرشار ہو اٹھتے ہیں لیکن ہم میں سے کتنے لوگ اپنی روز مرہ کی زندگی میں اس نغمے میں د یے گئے انسانیت کے اس سبق پر کتنا عمل کرتے ہیں ، ایک بار ہم سب کو اپنا محاسبہ ضرور کرنا چاہیے ؟ دوسروں کے کام آنے کے اسی جذ بے نے گزشتہ دنوں ایم اطہر الدین 'منے بھارتی' کو بےچین کر دیا اور وہ اپنی جان کی پروا کیے بغیر ایک نوجوان کی جان بچانے کے لیے کودپڑے۔ موصوف این ڈی ٹی وی کے صحافی ہیں ، انہوں نے گزشتہ ہفتے ستیندرنامی ایک 17؍سالہ نوجوان کی جان بچا نے میں اہم کردار ادا کیا ہے ، منے بھارتی کا یہ عمل یقینا ان لوگوں کے لیے قابل تقلید ہے جو انسانوں کی خدمت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں اور ان لوگوں کے لیے قابل عبرت ہے جو ایسے ہنگامی حالات میں مدد کے لیے آگے آنے کے بجائے مصلت کوشی کے غار میں چھپنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں ۔ 'ایشیا ٹائمز' نےاس واقعے کے بعد 'منے بھارتی' سے ملکر ان کی سماجی زندگی کی کتاب کی ورق گردانی کی ، ایک ایسے بے خوف و بے لوث سماجی خدمت گارکی زندگی سے دوسروں کو کیا سبق لینا چاہیے یہ پہلو عوام کے سامنے لانے کی کوشش ہے ۔ ان سے یہ بھی جاننے کی کوشش کی کہ اپنی پروفیشنل لائف اور سماجی زندگی میں توازن برقرار رکھتے ہوئے اتنے وسیع پیمانے پر سماجی خدمات کو کس طرح انجام دیتے ہیں ۔ اپنے آس پاس کے انسانی مسائل کے حل میں ابتک کیا کردار اداکیا اور کس حدتک کامیابی ملی ہے ؟ مسقبل میں کیا کوئی ڈریم پروجیکٹ بھی رکھتے ہیں ؟ ایک سماجی خدمت گار کو کن کن مشکلات سے کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اسے کس طرح کام کرنا چاہیے ؟ پیش ہے اشرف علی بستوی کی گفتگو پر مبنی یہ اسپیشل رپورٹ ۔ سب سے پہلے تو اس عظیم انسانی خدمت کے لیے 'ایشیا ٹائمز' کی جانب سے مبارکباد قبول فرمائیں ، یہ بتائیں کہ اس دن مارننگ واک کے دوران کالندی کنج پارک کے پاس کیا حادثہ پیش آیا تھا اور آپ نے کیسے ایک نوجوان کی جان بچائی ؟ منے بھارتی نے اس خوف ناک واقعے کی تفصیل کچھ یوں بیان کی ، وہ کہتے ہیں کہ بات 12مئی 2016 کی ہے اوکھلامیں واقع کالندی کنج پارک میں صبح سویرے لوگ مارننگ واک کر رہے تھے کہ اچانک میری نگاہ پارک کے کونے میں کھڑے رکشے پر پڑی جو لگاتار ہل رہا تھا، میں تیزی سے رکشے کی طرف لپکا، کیا دیکھتا ہوں کہ ایک سولہ سترہ سال کا نوجوان بجلی کے ٹرانسفارمرکے پاس تڑپ رہاہے، اس کے منہ سے جھاگ نکل رہاہے اوراس کا پورابدن اکڑاجارہاتھا،آنکھیں سرخ ہوچکی تھیں۔ اسپتال سے بخیر و عافیت لوٹے نوجوان ستیندر کے ساتھ منے بھارتی میں لڑکے کو بجلی سے کھیچ کر نکالنے کی کوشش کرنے لگا ، لڑکے کو ہاتھ لگاتے ہی مجھے بجلی کا تیز جھٹکالگا اور دور جاگرا ، خود کو سنبھالتے ہوئے دوبارہ اٹھا اورآواز لگانی شروع کر دی، کوئی ہے جو میری مدد کے لیے آگے آئے ، آواز سن کر درجنوں افراد جمع تو ہوگئے لیکن نوجوان کو اسپتال لے جانے کے لیے کوئی بھی آگے نہیں آرہا تھا ۔ لوگ پولس کے چکر میں پڑنے سے کترارہے تھے ۔ میں نے لاکھ سمجھانے کی کوشش کی کہ پولیس کسی سے پوچھ گچھ نہیں کرے گی لیکن کوئی بھی اسپتال لے جانے کو تیار نہیں ہوا۔ میری چیخ و پکار سن کر بالاخر ایک اپاہج شخص کے دل میں انسانی خدمت کا جذ بہ بیدار ہوا اوراس نے مدد کے لیے ہاتھ بڑھا یا انہیں دیکھ کر دوسرے لوگ بھی مدد کے لیے بڑھے ، ہم بچے کو اسپتال لے گئے ۔اسپتال میں اس بچے کے والد کو فون کرکے بلایا گیا ۔ ڈاکٹروں کا کہناتھاکہ اگر تھوڑی اور دیر ہوجاتی تو شاید نوجوان کی جان بچ پانامشکل تھا ، ڈاکٹروں کی ٹیم علاج میں لگ گئی۔ ستیندر کے بدن کو چھونے سے لگنے والے بجلی کے جھٹکے نے مجھے بھی ہلاکر رکھ دیالیکن میں ہمت نہیں ہارا۔ مجھے خوشی ہے کہ میری بر وقت کوشش سے ایک نوجوان کی جان بچ گئی ۔ دہلی کے مدن پور کھادر کے رہائشی راجیش کمار یادو کا 17 سالہ نوجوان بیٹا ستیندراب رفتہ رفتہ ٹھیک ہو رہا ہے ، اس کے والدین کافی خوش ہیں ، لیکن اپنے اہل خانہ کی غربت دور کرنے میں منہمک اس نوجوان کو اب بھی اپنے زخموں کی پروا نہیں ہے ،ای رکشا چلا کر روزی روٹی کا بندو بست کرنے میں مصروف ہو گیا ہے ۔ ہم تو محض ایک ذریعہ بنے ، بچانے والا تو اللہ ہی ہے ۔ ہم نے ان سے یہ بھی دریافت کیا کہ متذکرہ بالا واقعے کے علاوہ آپ نے ابتک اپنے آس پاس بسنے والے انسانوں کے مسائل کے حل کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں ؟ آپ کی سماجی خدمت کا یہ سفر کتنا طویل اور وسیع ہے ؟ منے بھارتی ایوارڈ حاصل کرتے ہوئے وہ مسکراتے ہوئے کہتے ہیں سب سے آسان اور مشکل کام اپنے آس پاس کے سماجی مسائل پر اٹھ کھڑے ہونا ہے ، جب آپ اپنے معاشرے میں کوئی کام شروع کرتے ہیں تو مخالفت کا سامنا کرنے اور تنقید برداشت کرنے کے لیے خود کو تیار کرنا ہوگا ، جامعہ نگر علاقے میں بدترین بجلی کٹوتی اور بدعنوانی سے متعلق معاملات کی اعلیٰ سطح جانچ کرائے کے لیے وزیر اعلیٰ اروند کیجری وال کوہم نے جون 2015 میں پہلا کھلا خط لکھا اپنے چار نکاتی مکتوب میں ہم نے یہاں کے اہم ایشوز کی نشاندہی کی پہلے خط میں بدعنوانی کی جانچ کا مطالبہ کیا جبکہ دوسرے خط میں شاہین باغ کے ڈی بلاک میں بجلی کٹوتی کی جانب توجہ مبذول کرائی ، بعد از نومبر 2015 میں جامعہ نگر علاقے میں بدعنوانی سے متعلق معاملات کی اعلیٰ سطح کی جانچ کرائے کے لیے ہم نے لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ کو کھلا خط لکھا اپنے 6 نکاتی مکتوب میں ہم نے ایک بار پھر یہاں کے اہم ایشوز کی نشاندہی کی۔ مزید کہتے ہیں کہ میں اپنی استطاعت کے مطابق سماجی خدمت کے لیے کوشاں رہتا ہوں ، مہلک بیماریوں کے شکار غریب مریضوں کی مالی مدد کا بندو بست ، یتیم بچوں کی پرورش اور ان کی تعلیم کے لیے اہل خیر حضرات کو توجہ دلانا میرا مستقل مشغلہ ہے ۔ اس کے علاوہ سرکاری ترقیاتی منصوبوں کے نفاذ کی کوششوں میں مجھے خاصی دل چسپی ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کے نفاذ کے لیے ہم نے گزشتہ دنوں نامزد راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ ایچ کے دوا کے 25 لاکھ روپیہ کی ممبر پارلیمنٹ فنڈ سے بہار کے ویشالی ضلع کے كرینجی پنچایت میں ذیلی صحت مرکز کی عمارت تعمیر کرائی، اس سے پہلے اس گاؤں میں ذیلی صحت مرکز کرایہ کے مکان میں چلتا تھا، یا پھر گاؤں والوں کو کئی کلومیٹر کا سفر طے کرکے علاج کرانے کے لیے جانا پڑتا تھا، اب عمارت تو تيار ہو گئی ہے لیکن ڈاکٹروں کی ٹیم آج تک نہیں آئی، جس کے لیے بہار حکومت سے ہماری کوشش جاری ہے ۔ كرینجی گاؤں میں ریاست بہار کے راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ شوانند تیواری کے تقریبا 30 لاکھ روپیہ ممبر پارلیمنٹ فنڈ سے كرینجی ثانوی اسکول کی عمارت تعمیر کرائی گئی ، اردو اسکول کو جلد گرلس اردو ہائی اسکول کا درجہ ملنے والا ہے، اسکول کے سامنے نالے کوڈھانک کر اسکول کے سامنے پارک کی تعمیر کے لئے بہار کے راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ مرکزی وزیر پٹرولیم دھرمیندر پردھان کی طرف سے جاری پچاس لاکھ روپیہ ویشالی کے ادھكاريو کی لاپرواہی کی وجہ سے واپس آ گیا، جس سے لوگوں میں بھاری مایوسی ہے۔ کرینجی گاوں میں مقامی لوگوں کے ساتھ ہم نے منے بھارتی سے یہ بھی دریافت کیا کہ کیا آپ کا کوئی ڈریم پروجیکٹ بھی ہے ؟ اس کے جواب میں منے بھارتی کہتے ہیں 'مفت دسترخوان مشن' کے تحت کھانے کا نظم کیا جانا میرا خواب ہے، اس مشن کے تحت راہ گیروں کو مفت کھانا کھلانے کا منصوبہ ہے ، وہ بتاتے ہیں کہ اس منصوبے کا آغاز ہم نے قومی دارالحکومت دہلی کے اوكھلا جامعہ نگر میں کیا تھا، لیکن یہ منصوبہ اقتصادی وجوہات سے فی الحال بند ہے جس کو جلد شروع کیے جانے کی کوشش جاری ہے ۔ مفت دسترخوان پر کھنا کھاتے لوگ قابل ذکر ہے کہ گزشتہ 25 برس سے صحافت کے ساتھ ساتھ سماجی خدمت میں سرگرم منے بھارتی کو ابتک کئی ایوارڈ مل چکے ہیں ، دہلی پولیس کی طرف سے 2014 کا بیسٹ سوشل ورکر ایوارڈ انہیں اس لیے دیا گیا تھا کہ وہ دہلی کی سخت سردی میں جب لوگ سورہے ہوتے ہیں اس وقت وہ اپنی اہلیہ، ظہیرالحسن اور پوری ٹیم کے ساتھ دہلی کی سڑکوں پر ہوتے ہیں، سڑکوں کے کنارے اور اسپتالوں کے سامنے سردی سے کانپتے مریضوں کے اہل خانہ کو کمبل اوڑھانے کا کام کرتے ہیں، وہ ایسے لوگوں کو تلاش کرتے ہیں جو امداد کے اصل حقدار ہوں لوگوں کا كہناہے کہ منے بھارتی ہمیشہ دستیاب رہنے والے سماجی کار کن ہیں ۔ عام طورپر موٹر سائیکل پر چلنے والے منے بھارتی کو جو جہاں کہیں پکڑ لے بس وہیں اس کی مدد کے لئے کوشش شروع کر دیتے ہیں، کام کو انجام تک پہچانا ان کی اپنی شناخت بن گئی ہے، عام لوگوں کو ان کےجائزحق دلانے کے لئے بڑے بڑوں سے ٹکرانا ان کا روزانہ کا معمول بن گیا ہے، جس کی وجہ سے انہیں کئی بار دھمکیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا، لیکن وہ ہمت نہیں ہارے۔ سماجی خدمت کے تئیں یہی لگن منے بھارتی کو دوسروں سے الگ کرتی ہے ، دوسروں کی خوشی کو اپنی خوشی اور دوسروں کے غم کو اپنا غم بنالینے والے 'منے بھارتی' ان لوگوں کے لیے مشعل راہ ہیں جو بلا تفریق مذہب و ملت انسانیت کی خدمت کے لیے خود کو تیار رکھتے ہیں ۔