imageshad.jpg

This Page has 1733viewers.

Today Date is: 17-11-18Today is Saturday

'امن و انسانیت مہم ' کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آرہے ہیں ؛مایوسی اب امید میں بدلنے لگی ہے / انجینئر محمد سلیم

  • جمعرات

  • 2016-09-08

جماعت اسلامی ہند کے سیکریٹری جنرل انجینئر محمد سلیم سے اشرف علی بستوی کی خصوصی گفتگو ملک کے تیزی سے بدلتے حالات کے پیش نظر جماعت اسلامی ہند کی ملک گیر 'امن و انسانیت مہم ' جو 21 اگست کو شروع ہوئی تھی ابھی جاری ہے یہ 4 ستمبر تک جاری رہے گی ۔اس درمیان ملک بھر میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ اور آپسی بھائی چارے کے لیے سدبھاونا کمیٹیوں کا قیام جاری ہے ۔ ملک کے طول عرض میں مہم کے والہانہ استقبال کی خبریں موصول ہو رہی ہیں برادران وطن کی قابل ذکرشرکت اور ملت اسلامیہ ہند کے سرگرم تعاون سے یہ مہم اب تکمیل کے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے ۔ طے شدہ منصوبے کے مطابق یہ مہم اب تک کس حد تک کامیاب رہی ہے ۔ معاشرے میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ میں کتنا کامیابی ملی ہے ۔ مستقبل میں اس کے اثرات باقی رہیں اس کے لیے کیا اقدامات کیے جا ئیں گے ؟ ان سوالات کے جوابات جاننے کے لیے دواران مہم اشرف علی بستوی نے مہم کے دوروں سے واپسی پر دہلی میں جماعت کے سیکریٹری جنرل انجینئر محمد سلیم سے یہ خصوصی گفتگو کی ہے ۔ سوال : جماعت اسلامی ہند کی 'امن و انسانیت مہم 'کا آج 11 واں دن ہے گویا مہم کا دوحصہ تکمیل کو پہونچ رہاہے آپ کی توقعات کے مطابق اب تک کیا کامیابی ملی ہے؟ جواب : ہماری مہم کا آج گیارہواں دن ہے ، اب تک کی ہماری مہم کی حصول یابیاں قابل ذکر ہیں ،ہمیں لوگوں کی شرکت اور دلچسپی سے یہ اندازہ ہوا کہ لوگ اس طرح کی مہم کا انتظار کر رہے تھے ۔ ہمارے کیڈر کے علاوہ ملت اسلامیہ ہند کے سبھی مکاتب فکر اوربرادران وطن نے اس مہم کا والہانہ استقبال کیا ہے ۔ معاشرے کا ہر طبقہ سرگرم شرکت کر رہا ہے۔ سماجی کارکنان، حقوق انسانی کے لیے کام کرنے والے لوگ ، مذہبی رہنما ، صحافی حضرات اور وکیل صاحبان شریک ہورہے ہیں۔ لوگوں سے ملنے انہیں سننے اور ان سے تبادلہ خیال سے ملنے اندازہ یہ ہوا کہ سبھی ملک کی صورت حال کو لیکر کافی فکر مند تھے ۔ مہم کے تعلق سے میرا کرناٹک جانا ہوا ، کافی اچھا ریسپانس رہا ،سابق نائب صدر بی ڈی جتی کے بیٹے اروند جتی نے ہمارے پروگرام میں شرکت کی کافی خوشی کا اظہار کیا اور اپنا تعاون پیش کیا۔ وہاں ہماری ملاقات ہندو مذہبی لیڈران سے بھی ہوئی وہاں کے ارمیری مٹھ کے آچاریہ سوامی ملکارجن جی سے ہم نے تفصیلی ملاقات کی مذہبی رہنما ، ہیومن رائٹس گروپ سبھی اس مہم کو لیکر کافی پر امید نظر آئے ۔ سوال : اس مہم میں ابتک برادران وطن کی شرکت کا تناسب کیا رہا اورمسلمانوں کے سبھی مکاتب فکر اور گروپوں سے کیا تعاون ملا ؟ جواب : ہمارے ابتک جتنے بھی پروگرام ہوتے رہے ہیں یہ 'امن و انسانیت کی یہ مہم ' ان سے ذرا مختلف ، اس مرتبہ یہ مہم بڑی کامیابی کی جانب گامزن ہے ، ہمارے عوامی پروگرام کافی کامیاب ہو رہے ہیں۔ عوام کی شرکت میں زبردست اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ دراصل ہم نے اس مہم کی منصوبہ بندی کچھ اس طرح کی تھی کہ بڑے پروگرام کم ہوں گے البتہ Motivate کرنے کے لیے مہم کی لانچنگ کے کچھ پروگرام ہوں گے ، ہماری زیادہ توجہ اس بات پر ہے کہ ہم مقامی سطح پر معاشرے سبھی طبقات کے لوگوں کو ساتھ لیکر سبھی مذاہب کے لوگوں کے ساتھ چھوٹی چھوٹی میٹنگیں کریں اور چھوٹے پروگرام کریں اور لوگوں کو جوڑیں ۔ بلکہ صرف میٹنگیں ہی نہیں ہوں گیں بلکہ مستقل پروگرام ترتیب دیں گے تاکہ یہ مہم 4 ستمبر کو ختم نہ ہو بلکہ 4 ستمبر سے مہم نئے مرحلے میں داخل ہو جائے ۔ ہم سدبھاونا منچ کے نام سے ، سدبھاونا کمیٹیاں بنائی جارہی ہیں، تلنگانہ ،مہاراشٹر ، مدھیہ پردیش ،اتر پردیش ،دہلی سمیت دیگر ملک کی دیگر ریاستوں میں چھوٹے چھوٹے پروگرام چلائے جارہے ہیں ۔ابتک ہمیں امید سے کہیں زیادہ کامیابی ملی ہے اور انشا اللہ بقیہ دنوں میں بھی ملے گی ۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ یہ مہم بروقت شروع کی گئی ہے ، ایسے وقت میں جب حالات بگاڑے جا رہے ہیں ،جماعت کی طرف سے سبھی کو ساتھ لیکر مہم چلانے کا یہ ماڈل کامیاب رہا اس پر ہمیں اور کام کرنا ہے ۔ سوال :گزشتہ دنوں میڈیا میں اس مہم کے تعلق سے کئی کالم نگاروں نے کالم لکھے کہ 'کاش ایسا ہو کہ ملت کی تمام تنطیمیں اپنے اپنے مقامات پر اس مہم میں اپنی افرادی قوت کے ساتھ شریک ہوں '۔ تاکہ یہ مہم ملک گیر مہم بن جائے ، اس لحاظ سے مسلم تنظیمیوں کی شمولیت کیسی رہی ہے ؟ جواب : ملت اسلامیہ ہند کی مختلف تنظیمیں اور اداروں کے ذمہ داران ان کے متوسلین کی بڑی تعداد ہمارے پروگراموں میں شریک ہو رہی ہے ۔ میں نے اب تک جہاں جہاں کا دورہ کیا ہے ہر جگہ یہ دیکھا ہے کہ سبھی لوگ شریک ہو رہے ہیں ۔ ملت کے تمام طبقات کا ہمیں تعاون مل رہا ہے ۔ اس مہم میں ایک خاص بات یہ بھی کی تھی کہ ہم نے مقامی سطح پراور ریاستی سطح پر استقبالیہ کمیٹی تشکیل دی تھی جس میں معاشرے کے سبھی طبقے کے لوگوں کو شریک کیا گیا ہے ،ہمارا دعوت نامہ صرف جماعت کی طرف سے نہیں تھا بلکہ ہر جگہ کی استقبالیہ کمیٹی کے ذریعے سے دعوت نامے دیے گئے ۔ ہماری انہی کوششوں کی وجہ سے یہ مہم عوامی مہم بن سکی ۔ سوال : ابتک گیارہ دن ہوچکے ہیں 'امن و انسانیت ' کی اس مہم کو ئی کوئی مشکل پیش آئی ہو؟ جواب : ابتک اس مہم میں رخنہ ڈالنے کی کہیں سے کوئی رپورٹ نہیں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اس مہم کی پلاننگ کرتے وقت ہی اپنے کیڈر کو یہ بات اچھی طر ح ذہن نشین کرا دی تھی کہ ہمیں کن بنیادوں پر کام کرنا ہے سب سے پہلے ہم نے مہم کا کانسیپٹ پیپر تیارکیا تاکہ اس کی روشنی میں اپنے لوگوں کو تربیت دی جا سکے ۔ مہم کی تفہیم کے پروگرام کیے گئے تاکہ یکسانیت کے ساتھ پورے ملک میں یہ مہم چلائی جا سکے ۔ ہم نے اپنے ریاستی ذمہ داران کو بلایا اور پھر مرکزی ٹیم نے مہم سے قبل ریاستوں میں جاکر وہاں کے ذمہ داروں کی ذہن سازی کی۔ ہم نے طے کیا تھا کہ اس مہم کا مکمل فوکس سماج ہوگا اسی کے پیش نظر ہم نے اس کا لہجہ بھی سماجی رکھا، ہم نے اس مہم کو سیاسی رخ پر نہیں جانے دیا ۔ ہم نے یہ محسوس کیا کہ ہم نے ابتک مختلف ذرائع سے حکوت کو توجہ دلانے کا کام کیا ہے اب سماج کو متوجہ کرنے کا کام کیا جائے ۔ سوال : اس مہم میں ابتک میڈیا کا کیا تعاون ملا ہے؟ جواب : میڈیا کا رول بھی بہت مثبت ہے، ہمیں ہر سطح پر میدیا کا بھر پور تعاون مل رہا ہے مین اسٹریم میڈیا بھی ساتھ دے رہا ہے خاص طور سے شمالی ہند کی ریاستوں یو پی اور بہار، راجستھان ، جھارکھنڈ میں ہندی میڈیا اچھا تعاون کر رہا ہے اس کے علاوہ مہاراشٹر ، کرناٹک اور تلنگانہ میں بھی ہمیں بھر پور کوریج مل رہا ہے ، انگریزی میڈیا نے بھی ہمیں جگہ دی ہے ۔ الیکٹرانک میڈیا بھی بھی کور کرر رہا ہے اس کے علاوہ ویب میڈیا اور سوشل میڈیا میں کافی حد تک ہمیں جگہ ملی ہے ۔ اس مرتبہ ہم نے سوشل میڈیا کے لیے منصوبہ بنایاہے اور فوکس کام کیا ہے جس کی بدولت ہم ملک کی بڑی ابادی تک پہونچنے میں کامیاب ہوئے ہیں ابھی پانچ روز اور کوششیں کی جائیں گیں ۔ سوال : مہم کے درمیان دیگر مذاہب اور معاشرے کے لوگوں سے ملنے کے بعد کے آپ کے تعلق سے ان کے احساسات کیا ہیں سوال : پہلے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ان حالات میں لوگ مایوسی کا شکار ہوتے چلے جا رہے تھے ، لوگوں میں یہ احساس پیدا ہونے لگ گیا تھا کہ شاید اب کچھ نہیں کیا جا سکتا ۔ کیونکہ حالات کو بگاڑنے والے لوگ اقتدار میں ہیں گویا سب کچھ ہمارے ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے ۔ لیکن اس مہم کے ذریعے سے جس طرح لوگ قریب آ رہے ہیں پروگراموں میں شریک ہو رہے ہیں، اس سے تمام انصاف پسند امن پسند لوگوں میں حوصلہ پیدا ہوا ۔ مایوسی اب امید میں بدلنے لگی ہے لوگ اب یہ سمجھنے لگے ہیں کہ سماج کو نقصان پہونچانے والے لوگ اقلیت میں ہیں اکثریت آج بھی امن پسند ہے ۔ اس مہم کے ذریعے ہم مایوسی کی کیفیت سے ہندوستانی معاشرے کو نکالنے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ سوال : مہم کے آخر میں 3 ستمبر کو کانسٹی ٹیوشن کلب میں میڈیا سمپوزیم بھی کرنے جا رہے ہیں اس سمپوزیم سے کیا توقعات ہیں ؟ جواب : ہم نے اس پوری مہم میں جن لوگوں کو مخاطب کیا ہے اس میں سماجی تنظیمیں ، انسانی حقوق کی کی تنظیمیں اور انصاف کے قیام کے لیے کام کرنے والے لوگ، مذہبی تنظیمیں شامل ہیں ۔ ہم نے میڈیا کے رول کو بھی سمجھا ہے اور میڈیا کو بھی متوجہ کیا ہے ، یہ بات درست ہے کہ میڈیا کا ایک حصہ مستقل ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے ، یہ بھی درست ہے کہ میڈیا کارپوریٹس کا ہوتا جا رہا ہے ۔ لیکن ہم نے سمجھا کہ میڈیا میں کام کرنے والے افراد بھی اسی سماج کا حصہ ہیں وہ بھی زندہ ضمیر رکھتے ہیں اس لیے ہم نے ان کو متوجہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔ وہ جہاں کہیں بھی ہیں جتنا موقع ملے وہاں جتنا اسپیس ملے اپنی حد تک معاشرے کو جوڑنے کے لیے جو کچھ کر سکتے ہیں ، کریں۔ ہم نے انفرادی طور بھی میڈیا کے افراد سے رجوع کیا ہے ۔اسی مناسبت سے دہلی میں "فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے قیام میں میڈیا کا کردار " عنوان پر ایک سمپوزیم رکھا ہے جس مٰن اہم شخصیات شرکت کریں گیں دہلی کے علاوہ اور بھی مقامات پر یہ کام کیا جا رہاہے۔ ۔ میڈیا کا ایک بڑاحصہ ایسا ہے جن کے ضمیر کو جگانے کی کوشش کریں تو ہمیں کامیابی ملے گی ۔ سوال : مہم کے بقیہ دنوں کے لیے اپنے کیڈرس اور ملک کی عوام کو کیا پیغام دینا چاہیں گے ؟ جواب : یہ مہم جماعت اسلامی کی مہم نہیں بلکہ تمام باشندگان ملک کی مہم تھی جس کو ہم نے سب کی مہم بنانے کی کوشش کی ہے اور کر رہے ہیں ، ہماری اپیل ہے کہ یہ مہم 4 ستمبر کو ختم نہ ہو، ہم نے پندرہ روز میں جو کوششیں کیں ہیں اس کے ذریعے ایسے پلیٹ فارم بنانے کی کوشش کریں گے کہ ایسے فورم قائم ہو جائیں جو فرقہ وارانہ ماحول کو ٹھیک کرنے کا کام کریں اور حالات خراب ہونے سے روکنے کاکام کریں ۔ ایک پیغام ہمارے کیڈر کے لیے بھی ہے اور سب کے لیے ہے ۔ ہمارے سماج میں جس تیزی سے دوریاں بڑھ رہی ہیں وہ ملک کے لیے نقصان دہ ہیں ۔ ملک کی ترقی کے لیے رخنہ ہیں اسے مٹانے کی کوشش کریں ۔ ہمارے کیڈر اس کام کو دینی فریضہ سمجھ کر رہے ہیں پوری توجہ اور تندہی سے لگے ہوئے ہیں ۔ یہ ایک انتہائی اہم ذمہ داری تھی جسے جماعت اسلامی ہند نے ادا کرنے کی ایک کوشش کی ہے ، اس کے اچھے نتائج کی توقع کرتے ہیں ۔

صحت و تندرستی کے لیے خاص مشورے