حماس لیڈر خالد مشعل نے انگریزی اخبارDNA کو دیا انٹرویو: کہا ، دنیا سمجھ لے ؛ ہم قومی مزاحمتی تحریک ہیں ،دہشت گرد نہیں


  • جمعرات
  • 2016-09-08
افتخار گیلانی ،ڈی این اے دوحہ/ نئی دہلی: حماس لے لیڈر خالد مشعل نے معاصر انگریزی روزنامہ ڈی این اے کو دیے گئے ایک تازہ انٹر ویو میں کیا کہ "ہم دہشت گرد آرگنائزیشن نہیں ، قومی مزاحمتی تحریک ہیں"۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسئلہ فلسطین کے حل کی master key اسرائیل کے پاس ہے "۔ خالد مشعل کا یہ انٹرویو وزیر اعظم نریندر مودی کے اسرائیل دورے کی تیاریوں کے درمیان آیا ہے ۔ غزہ میں بر سر اقتدار حماس کے سربراہ خالد مشعل نے حال ہی میں ہندوستانی صحافیوں کے ایک منتخب گروپ سے ملاقات کی تھی۔ یہ انٹر ویو ڈی این اے کے سینئر جر نلسٹ افتخار گیلانی نے کیا ہے ۔جس میں انہوں اسرائیل – فلسطین تنازعے کے حل کے سبھی پہلوں اور حماس کی تحریک مزاحمت پر سیر حاصل گفتگو کی ہے ۔ یہ جاننے کی کوشش کی کہ یہ مزاحمتی تحریک اور دہشت گردی میں نمایاں فرق کیاہے ؟ فلسطین کی تحریک مزاحمت کو دنیا کس نگاہ دیکھتی ہے؟ یہ بھی سامنے لانے کی کوشش کی ہے ۔ کہ مسئلہ فلسطین مسائل کے حل میں درپیش چیلنج کیا ہیںاور مغربی ایشیا کے خطے کی سیاسی پیچیدگیاں اس کے حل میں کس طرح رخنہ انداز ہو رہی ہیں ؟ ۔ دنیا بھر میں، مزاحمتی تحریکوں، خصوصی طور سے مسلح تحریکوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ اب انہیں بھی دہشت گرد گروہوں کے ساتھ منسلک کر کے پیش کیا جا رہا ہے ۔ ظاہر ہے یہ ایک بڑا مشکل چیلنج ہے اس نئے جیو اسٹریٹجک ماحول میں 'حماس ' اپنی تحریک کو جاری رکھ رہی ہے ؟ قابل تجزیہ نگار افتخار گیلانی نے اپنے اس متذکرہ بالا سبھی سوالا ت کے جواب اس انٹر ویو میں لینے کی کوشش کی ہے ۔ افتخار گیلانی نے ان سے انتہائی اہم سوال کیا پوچھا کہ ایران ۔ شام اور حزب اللہ نے طویل عرصے تک آپ کی ہر ممکن مدد کی یہاں تک کہ مشکل ترین حالات میں بھی آپ کا ساتھ نہیں چوڑا لیکن آپ نے ان کو دھوکہ دیا ؟ اس کے جواب میں خالد مشعل کہتے ہیں کہ جہاں تک شام اور ایران کا تعلق ہے، سچ ہے کہ انہوں نے ہمیں برسہا برس سے درکار مد دی ہے. ہم اسے کبھی نہیں بھولیں گے. لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جھنوں نے ہمیں مدد دی ہم بدلے میں ہر حال میں ہم اس کی حمایت کریں اور ان کے داخلی معاملات میں پڑیں ان کے اپنے ہی شہریوں کے خلاف لڑیں ۔ شام کی حکومت اپوزیشن سے لڑنے کے لئے ہماری مدد چاہتی تھی ،ہم نے اس معاملے میں ان سے دوری بنانا ہی بہتر سمجھا اور ان کے داخلی معالے سے خود کو الگ رکھا ۔ البتہ ISIS اور غیر ملکی جارحیت کے خلاف جنگ میں ان کے ساتھ ہیں۔ خالد مشعل کا تفصیلی انٹر ویو ڈی این اے کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے پڑھنے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پرکلک کریں ۔ بہ شکریہ ڈی این اے