فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ میں میڈیا کااہم رول ہے۔


  • جمعرات
  • 2016-09-08
اکیسویں صدی کا ایک نام اطلاعاتی صدی بھی ہے ، یعنی موجودہ دور کے انسانوں کی سماجی ، معاشی اور سیاسی ترقی میں اطلاعات کا انتہائی اہم اور موثر رول ہے ۔ یہ صرف اسی صدی کا نہیں بلکہ ہر دور میں اطلاعات کو یہی مقام حاصل رہا لیکن اطلاعات پہونچانے کے آلہ کار اس قدر برق رفتار نہ تھے جیسے کہ آج ہیں ۔ آج ہم تک جس رفتار سے یہ اطلاعات پہونچ رہی ہیں ان میں صحیح اور غلط کی تمیز مشکل ہو گئی ہے ۔ اسی لیے بعض اوقات غیر مصدقہ اطلاعات کی وجہ سے معاشرے میں غلط فہمی پھیل جاتی ہے جو معاشرے کو منتشر کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہی ہے ۔ یہی غیر مصدقہ اطلاعات جب کسی ملک کے خلاف پھیلا دی جائیں تو جنگیں برپا کردیتی ہیں ،معاشرے میں کسی انسانی گروپ کے خلاف پھیلا دی جائیں تو فرقہ وارنہ فسادات پھوٹ پڑتے ہیں ۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے انسانی معاشرہ خون آلود ہوجاتا ہے ۔ غیر مصدقہ اطلاعات نے دنیا میں بہت نقصان پہونچایا ہے ویتنام اور عراق کی تاریخ گواہ ہے کہ خلیج جنگ محض ایک غلط اطلاع کو پھیلا دیے جانے کے نتیجے میں ہوئی جس کا اب اعتراف کیا جا رہا ہے ۔ ماس میڈیا جب حکمراں طبقے کا الہ کار بن جاتا ہے تو معاشرے کو بڑا نقصان پوہنچتا ہے ۔ ایک مصدقہ رپورٹ ایک لمحے میں کشیدہ حالات کو امن میں بدل دینے کی طاقت رکھتی ہے اور ایک جھوٹی رپورٹ صدیوں کے بھائی چارے کو تار تار کرنے کے لیے کافی ہو تی ہے ۔ ہندوستان کے سیکڑوں فرقہ وارانہ فسادات اس کی بدترین مثال ہیں ، ایک ہی معاشرے میں رہنے والے ہندو مسلم کس طرح دست گریباں ہو جاتے ہیں یہ میڈیا ہی کی غلط بیانیوں کے نتیجے میں ہو تا ہے ۔ یوں تو میڈیا کا یہ غیر ذمہ دارانہ رویہ سالہا سال سے جاری تھا لیکن یہ پرنٹ تک ہی محدود تھا ، اس وقت تک الیکٹرانک میدیا ٹی وی اور ریڈیو صرف سرکاری ہوا کرتے تھے ۔ لیکن 1991 میں لبرل معاشی نظام کے کوکھ سے پرائیویٹ طورپر الیکٹرانک میڈیا کا جنم ہوا اور مشروم کی طرح پرئیویٹ چینلوں کی آمد شروع ہوگئی۔ چوبیس گھنٹے کے ان نیوز چینلوں نے برق رفتاری سے عوام تک اطلاعات پہونچانے کا جو عمل شروع کیا اس میں صحیح اور غلط کی تمیز پر توجہ دینے کے بجائے ایک دوسرے سے اگے جانے کے لیے خوف و ہراس کا روبار شروع کر دیا جو آج بھیانک روپ دھار چکا ہے ۔ ڈراما ئی انداز میں خبروں کی پیش کش نے خبروں کو بھی تفریح کا سامان بنانے کی مہم شروع کر دی گئی ، معروضی صحافت دھیرے دھیرے مندمل پڑتی گئی اس کی جگہ افواہوں نے لے لی ہے ۔ بریکنگ کی نیوز کی خواہش نے ان چینلوں کو ایسا بے تاب و بے قرار کر دیا ہے کہ آدھی ادھوری اطلاعات کو فوری طور پر اپنے ناظرین تک پہونچانے کی جلد ی میں اپنی اصل ذمہ داری کو پس پشت ڈال دیتے ہیں ۔ میڈیا کو ہندوستاں میں جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے ، خود کو جمہوریت کا چوتھا ستون کہنے پر فخر محسوس کرنے والا میڈیا ایسا غیر ذمہ دار ہو جائے گا اس کی توقع نہ تھی ۔ کوئی مثبت خبر اگر معاشرے کے کسی کمزور طبقے کی ہو تو اس میں کوئی خاص دل چسپی کیوں نہیں ہوتی ، اگر منفی خبر ہے تو گھنٹوں برکینگ نیوز اور مباحثے نشر کیے جاتے ہیں ۔ دہشت گردی کے الزام میں اگر اقلیتی طبقے کے کسی نوجوان کی گرفتار ی ہو تو جمہوریت کا یہی چوتھا ستون ملک کے تحفظ کے لیکر بے قرار ہو جاتا ہے اور اگر اکثریتی فرقے کے لوگ دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیے جائیں تو ویسی سرخیاں نہیں بنتیں ، مباحثے بھی اس زور و شور سے نہیں ہوتے بلکہ ایسی خبر کو بہت جلد آرکائیوز کے حوالے کر دیا جاتا ہے ۔ اگر یہ میڈیا اپنی ذمہ داری کو ٹھیک سے انجام دے تو ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ میں انتہائی اہم رول ادا کر سکتا ہے ۔ ملک کی موجودہ صورت حال اس بات کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ سبھی امن پسند انسان دوست اٹھ کھڑے ہوں اور میڈیا فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی بحالی کی کاوشوں کو عوام تک پہونچائے ۔ ملک کی بگڑتے ہوئے فرقہ وارانہ حالات کا نوٹس لیتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کی پندرہ روزہ ملک گیر "امن و انسانیت مہم " جو 21 اگست کو شروع ہوئی تھی 4 ستمبر تک جاری ریے گی ۔ اس درمیان ملک بھر میں فرقہ وارانہ ماحول کی بھتری ، ہندو مسلم بھائی چارے کے فروغ کے لیے معاشرے کو جوڑنے کی کوشش کی جاری ہے ۔ اسی کڑی میں "فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ میں میڈیا کا رول" کے عنوان پر 3 ستمبر کو کانسٹی ٹیوشن کلب میں ایک روزہ سمپوزیم منعقد کر رہی ہے ۔ جس میں میدان صحافت کی اہم شخصیات شرکت کر رہی ہیں ۔ سمپوزیم منعقد کیا رہا ہے ۔ سمپوزیم میں میدان صحافت کی جو شخصیات شرکت کر رہی ہیں ان میں انڈیا ٹوڈے کے سابق گروپ ایڈیٹر پربھو چاولا ، ہندوستان ٹائمز کے پولیٹیکل ایڈیٹر ونود شرما ، ایڈیٹرس گلڈ کے سیکریٹری جنرل این کے سنگھ ، راجیہ سبھا ٹی وی کی ایڈیٹر امرتا راو ، کارواں کے پولیٹیکل ایڈیٹر ہر توش بل ، دہلی یو نیورسٹی کے پروفیسر منوج جھا ، آوٹ لک کے ایڈیٹر نیلابھ مشرا ، معروف صحافی انل چمڑیا ، ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس ایڈیٹر افکار ملی ، پروفیسر کمل چینائے نائب صدر آل انڈیا پیس اینڈ سالیڈرٹی ارگنائزیشن ، آرجے نوید ریڈیو مرچی ، سمریم کورٹ کے وکیل پی ایس ساردھا و سیکریٹری جنرل انجینئر محمد سلیم جماعت اسلامی ہند شرکت کر رہے ہیں ۔ ashrafbastavi@gmail.com