پاکستان کھیلوں کیلئے پرامن ملک ہے ۔ باکسر عامر خان


  • day
  • 2016-09-07
اہلیہ اردو سکھاتی ہیں،فیملی کے ساتھ وقت گذارنے کی کوشش کرتا ہوں، پوری دنیا کے مسلمان مجھے سپورٹ کرتے ہیں،باکسر ۔ فوٹو: فائل لاہور: عالمی شہرت یافتہ پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان نے کہاکہ پاکستان کھیلوں کے لیے پرامن ملک ہے، یہاں باکسنگ کا بہت ٹیلنٹ موجود بس اسے نکھارنے کی ضرورت ہے، پاکستان کو باکسنگ میں بلندیوں پر لے جانا چاہتا ہوں۔ فاسٹ بولر تھا لیکن پروفیشن اور جنون باکسنگ سے ہی وابستہ ہے،کوئی بھی ٹائٹل جیتنے سے زیادہ مشکل اس کا دفاع کرنا ہوتا ہے، میری اگلی فائٹ آئندہ سال جنوری یا فروری میں ہوگی۔ لاہور داتا دربار میں حاضری کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے عامر خان نے کہا کہ میرا تعلق راولپنڈی سے ہے، ہم چھوٹی عمر سے گرمیوں کی چھٹیاں پاکستان میں گزارتے تھے اور اس وقت سے آمد کا سلسلہ جاری ہے، مداحوں سے کبھی نہیں گھبرایا، وہ جب بھی سیلفیزکی فرمائش کرتے ہیں تو میں انکار نہیں کرتا، باکسنگ کا آغاز 8 سال کی عمر میں کردیا تھا، پاکستان سے تعلق ہونے کی وجہ سے کرکٹ سے لگائو ضرور ہے، میں فاسٹ بولنگ کرتا تھا لیکن پروفیشن اور جنون باکسنگ سے ہی وابستہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ باکسنگ میں سخت لیکن زندگی میں ذمہ دار شہری ہوں، پاکستان میں باکسنگ کا بہت زیادہ ٹیلنٹ ہے صرف اس کو نکھارنے کی ضرورت ہے۔ عامر خان نے بتایا کہ میری اہلیہ مجھے اردو سکھاتی ہیں، اردو اتنی زیادہ بولنی نہیں آتی لیکن کوشش ضرور کرتا ہوں، اپنی ذاتی زندگی کے متعلق سوالات کے جواب دیتے ہوئے بتایا کہ فریال سے نیویارک میں ڈنر پر ملاقات ہوئی اور میں نے ہی شادی کے لیے پرپوز کیا تھا، فریال کو باکسنگ کے متعلق کچھ خاص نہیں پتہ، جب میں نے شادی کے لیے پرپوز کیا تو اس نے بات والدین پر ڈال دی تھی جس کے بعد میں نے اپنے اہل خانہ کو ان کے گھر بھیجا اور شادی انجام پائی، فریال بہت کہتی ہیں کہ اب باکسنگ کو خیرباد کہہ دو لیکن میرا ابھی بہت کیریئر باقی ہے، میں صرف 29 سال کا ہوں، میرا خواب تھا کہ ورلڈ چمپئن بنوں جس کے لیے میں نے جرمنی کے 35 سالہ ورلڈ چمپئن کو چیلنج کیا اور کامیاب رہا، عامر خان نے بتایا کہ ایک فائٹ کے دوران میں پہلے ہی راؤنڈ سے باہر ہوگیا تھا، اپنی اس شکست سے مجھے بہت کچھ سیکھنے کو ملا اور وہ فائٹ مجھے ابھی تک یاد ہے جس کو میں کبھی نہیں بھول سکتا۔