پاکستان کرکٹ ٹیم نے 2017 میں ہم وطنوں کوبڑی کامیابیوں سے ہمکنار کیا۔


  • جمعہ
  • 2017-12-29
لاہور: قومی ٹیم کی پہلی بار چیمپئنز ٹرافی فتح پر 2017 نے پاکستان کرکٹ کی جھولی خوشیوں سے بھردی جب کہ ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی ہوئی۔ پاکستان کرکٹ ٹیم 2017کا اچھا آغاز نہیں کرپائی، آسٹریلیا کیخلاف ون ڈے سیریز کے 5 میچز میں ایک فتح ہی ہاتھ آسکی جس کے بعد کپتان اظہر علی کو تبدیل کرنے کا مطالبہ زور پکڑگیا، فروری میں پی ایس ایل کے دوسرے ایڈیشن کے پہلے میچ کیساتھ ہی اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل نے طوفان پرپا کیا، مارچ میں دورہ ویسٹ انڈیز کیلیے ٹی ٹوئنٹی کپتان سرفراز احمد کو ون ڈے فارمیٹ میں بھی قیادت سونپ دی گئی جب کہ پاکستان ٹیم نے کیریبیئنز کو پہلی بار انہی کی سرزمین پر ٹیسٹ سیریز میں ہرا کر ریٹائرمنٹ کا اعلان کرنے والے سینئرز مصباح الحق اور یونس خان کو شاندارالوداعی تحفہ پیش کیا۔ بعد ازاں سرفراز احمد کی قیادت میں گرین شرٹس نے ون ڈے سیریز 2-1اور ٹی ٹوئنٹی سیریز جیتی، ان فتوحات کے باوجود عالمی رینکنگ میں آٹھویں نمبر پر موجود پاکستان کی ورلڈ کپ 2019میں براہ راست رسائی یقینی نہیں تھی، چیمپئنز ٹرافی میں دنیا کی 8 بہترین ٹیموں میں آخری نمبر پر موجود گرین شرٹس بھارت کیخلاف میچ میں ترنوالہ ثابت ہوئے لیکن اس کے بعد شاندار کم بیک کرتے ہوئے جنوبی افریقہ، سری لنکا کو زیر کرکے سیمی فائنل میں جگہ بنائی جہاں فیورٹ انگلینڈ کو روند ڈالا جب کہ فائنل میں پاکستان نے میگاایونٹس میں بھارت کے ہاتھوں مات کھانے کی تاریخ بدل ڈالی۔ فخززمان کی سنچری اننگز نے شائقین کے دل جیت لیے، محمد عامر نے یادگار اسپیل میں ویرات کوہلی سمیت 3مہرے کھسکائے، باقی کام ایونٹ کے بہتر بولر حسن علی اور دیگر نے کردیا جس کے بعد فاتح کرکٹرز پر انعامات کی برسات ہوئی۔ مصباح الحق اور یونس خان کے بغیر پہلی ٹیسٹ سیریز میں قیادت سرفراز احمد کو سونپی گئی، سری لنکا نے دونوں میچز میں شکست دیدی، یہ پہلا موقع تھا کہ گرین کیپس یو اے ای میں کسی ٹیسٹ سیریز میں ناکامی سے دوچار ہوئے، ون ڈے سیریز میں پاکستان نے آئی لینڈرز کو 5-0سے کلین سوئپ کیا، یواے ای میں دونوں ٹی ٹوئنٹی میچز بھی جیتے جب کہ لاہور میں بھی گرین شرٹس سرخرو ہوئے، ورلڈ الیون کی آمد اور سری لنکا سے اس میچ کی بدولت ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی ہوئی۔ گرین شرٹس نے مجموعی طور پر رواں سال 18ون ڈے میچ کھیلے، 12 میں فتح پائی، 6 میں شکست ہوئی، ان میں گزشتہ 9میچز میں مسلسل فتوحات شامل ہیں، گزشتہ برس11میں سے 6 مقابلوں میں ناکامی ہوئی تھی،گرین شرٹس کا سب سے بڑا اسکور 4وکٹ پر338 بھارت کے خلاف چیمپئنز ٹرافی فائنل میں رہا،کم سے کم مجموعہ بھی بلوشرٹس کیخلاف اسی ایونٹ کے پہلے میچ میں 164بنا، بابر اعظم 67.07کی ایوریج سے 872رنز بنا کر سرفہرست رہے،محمد حفیظ 555،شعیب ملک 516رنز کیساتھ ٹاپ تھری میں شامل ہیں۔ گزشتہ سال کی سب سے بڑی اننگز 125بابر اعظم نے کھیلی، نوجوان بیٹسمین نے 4 سنچریز بنائیں، فخر زمان ‘ شعیب ملک اور امام الحق ایک ایک تھری فیگر اننگز تراشنے میں کامیاب رہے۔ بولرز میں حسن علی 45،جنید خان اور شاداب خان 19،19، محمد عامر 18، عماد وسیم 9 وکٹ لے سکے، بہترین بولنگ فیگرز میں بھی حسن علی سرفہرست رہے، انھوں نے 10 اوورزمیں34رنز کے عوض 5 جبکہ عثمان خان شنواری نے 7 اوورز میں 34 رنز دے اتنے ہی شکار کیے، دونوں کے عتاب کا نشانہ سری لنکن بیٹسمین بنے۔ حسن علی نے اپنی شاندار کارکردگی کی بدولت آئی سی سی کی ون ڈے رینکنگ میں نمبر ون پوزیشن حاصل کی، بابر اعظم سال کا اختتام چوتھی پوزیشن پر جبکہ بولنگ ایکشن پر پابندی کے باوجود محمد حفیظ آل راؤنڈرز میں سرفہرست ہیں۔ پاکستان کے کئی سپر اسٹارز نے انٹرنیشنل کرکٹ کو الوداع کہا بشکریہ ایکسپریس میڈیا