انڈین مرکز ی حکومت کا سب سے بڑا 'ہال مارک' آئیڈیا لوجی ہے ؛ یہاں دوسری رایوں کے پیش کرنے کی کوئی درمیانی جگہ نہیں بچی ہے/سگریکا گھوش


  • جمعرات
  • 2016-09-08
نئی دہلی : (مانیٹرینگ ڈسک) کہا جاتا ہے کہ میڈیا سماج کا آئینہ ہے ،لیکن آج ہندوستانی میڈیا قومی ایشوز پر پوری طرح سے پولرائزہو ہو چکا ہے اس سے قبل ایسا کبھی نہیں ہوا تھا ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہے ؟ تشویش ناک امر یہ ہے کہ اب یہاں معاملے کے دوسرے پہلو اور دوسری رایوں کے پیش کرنے کی کوئی ایسی درمیانی جگہ نہیں بچی ہے جہاں سے بات پہونچائی جا سکے،تاکہ معاملے کا دوسرا پہلو بھی سامنے آسکے۔ کون دیش بھکت ہے ،کون ملک مخالف ہے ، کون کمیونل ہے اور کون سیکولر ،کسے پاکستان چلے جانا چاہیے اور کون غدار وطن ہے آج کے ہندوستانی میڈیا کا یہی موضوع سخن ہے ۔ ان خیالات کا اظہار سینئر جرنلسٹ 'سگریکا گھوش' نے 27 اگست کو جامعہ نگر میں 'جامعہ کلیکٹیو' کے پروگرام 'گفتگو' میں کیا ۔ وہ یہاں" Indian Media: Deeply Polarised on National Issues?" کے عنوان پر خطاب کر رہی تھیں ۔ سگریکا گھوش نے کہا کہ ایسا کیوں ہے ؟ اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے ،ہندوستان میں ایسی حکومت ہے جو ایک خاص نظریے پر یقین رکھتی ہے ۔ آپ دیکھتے ہوں گے کہ جب کبھی امت شاہ اور وزیر اعظم بات کرتے ہیں تو وہ اپنی گفتگو میں اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہمارے لیے سب سے بڑی ہماری آئیڈیالوجی ہے ۔ مرکز کی موجودہ حکومت کا سب سے بڑا 'ہال مارک' آئیڈیا لوجی ہے ۔ سیاسی جماعتیں تو نظریات پر مبنی ہوتی ہی ہیں لیکن جب کوئی حکومت کسی خاص آئیڈیا لوجی کی نمائندہ بن جائے تو پھر دوسروں کے لیے ڈائیلاگ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی ۔ وہ لوگ جنھوں نے بر سر اقتدار جماعت کو ووٹ نہیں دیا ان کے دل میں ایسے لوگوں کے لیے کوئی جگہ نہیں رہ جاتی۔ جب امریکی صدر براک اوبا پہلی بار صدر منتخب ہوئے تو انہوں نے کہا تھا کہ "میں ان سبھی لوگوں کا بھی صدر ہوں جنہوں نے مجھے ووٹ نہیں دیا ہے ۔ میں آپ سبھی سے ہر وقت ڈائیلاگ کے لیے تیار ہوں ،آپ جب مجھے پکاریں گے مجھے اپنے ساتھ پائیں گے "۔ اس موقع پر سگریکا گھوش نے لگ بھگ سوا گھنٹے کے اپنے لیکچر میں ہندوستانی میڈیا کی موجودہ صورت حال اور حکومت ہند کی کار گزاریوں پر کھل کر اظہار خیال کیا اورسامعین کے سوالات کے جوابات دیے ۔ واضح ہو کہ سگریکا گزشتہ 25 برس سے میدان صحافت میں سرگرم ہیں ایک اچھی براڈ کاسٹر ، اور مصنفہ ہیں انہوں نے کئی بڑے انگریزی اخبارات وٹیلی ویزن چینلوں میں اہم ذمہ داریوں پر خدمات انجام دی ہیں ۔ کئی میڈیا اداروں کی شریک بانی بھی رہی ہیں ۔آج کل ٹائمس آف انڈیا کے نیوز چینل ٹائمز ناو میں کنسلتنگ ایڈیٹر کے طور پر منسلک ہیں ۔