حافظہ فاطمہ راجپوت


  • day
  • 2016-08-19
سمپورن سنگھ گلزار ۔۔گلزار " کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ ہندوستان کے معروف شاعر، فلم میکر ، ہدایتکار، اور پلے رائٹر ہیں۔ گلزار ایک نامور شاعر اور ہدایت کار ہیں۔ وہ پاکستان کے شہر جہلم کے قریب دینہ میں 1936ء میں پیدا ہوۓ۔ اصلی نام سمپیورن سنگھ ہے۔ تقسیم برصغیر کے وقت وہ بھارت چلے گۓ۔ ابتدائی زندگی میں موٹر مکینک تھے۔ شاعری اور فلمی دنیا کی طرف رحجان انھیں فلمی صنعت کی طرف لے گیا۔ گلزار نے فلمی اداکارہ راکھی سے شادی کی۔ گلزار نے بطور ہدایتکار اجازت ، انگور ، دل سے ، معصوم آندھی، پریچے، موسم اور ماچس جیسی فلمیں بنائیں ۔ ان کا ٹیلی ڈراما مرزا غالب ایک کلاسیک کی حیثت رکھتا ہے۔ گلزار نے بطور شاعر بے شمار فلموں میں کے لیے گیت لکھے۔ ان کی فلمی شاعری میں بھی ایک اچھوتا پن پایا جاتا ہے۔ ان کے انوکھے اور نادر تشہبات کا استعمال ان کے گیتوں میں نئے رنگ بھر دیتا ہے۔ ان کے گیت نہ صرف ماضی میں پسند کیے جاتے رہے ہیں بلکہ آج کے دور میں بھی ان کے گانوں کو نوجوان شوق سے سنتے ہیں۔سنیمابین چار سال قبل ریلیز ہوئی مشہور فلم بنٹی اور ببلی کے سپرہٹ گانے ’کجرا رے’ کو نہیں بھولے یا پھر فلم اوم کارا کا انتہائی مقبول گانا ’بیڑی جلائی لے‘ یا پھر حال ہی میں ریلیز ہوئی فلم کمینے کا ہٹ نغمہ ’رات کے بارہ بجے’ ہو جو آج بھی ٹاپ دس گانوں کی فہرست میں شامل رہتا ہے، گلزار کی قلم سے نکلا ہر نغمہ عوام کے دل و دماغ پر مخصوص چھاپ چھوڑ جاتا ہے۔ فلم سلم ڈاگ ملینئیر کے لیے لکھے گئے گیتوں پر ان کو آسکر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ آپ اردو اور ہندی دونوں زبانوں میں لکھتے ہیں۔ ہندوستانی فلموں کے بہت سے مشہور نغمے آپ ہی کے قلم کا شاہکار ہیں۔ " چاند پکھراج کا " - گلزار کی اردو شاعری کا مجموعہ کلام ہے۔ مقبول و معروف شاعر و ادیب احمد ندیم قاسمی اور ان کی دختر منصورہ احمد نے گلزار کے اردو قلم اور ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو دریافت کیا تھا۔ گلزار کے لئے قاسمی صاحب ایک محبوب و محترم بزرگ شخصیت کا درجہ رکھتے ہیں۔ قاسمی صاحب ہی کے اشاعتی ادارے "اساطیر" سے گلزار کی دو کتابیں "چاند پکھراج کا" (شاعرانہ کلام) اور "دستخط" (اردو کہانیاں) شائع ہو چکی ہیں۔ گلزار کی غزلوں کا ایک بہت مشہور آڈیو البم "مراسم" کچھ سال قبل ریلیز ہوا تھا جس کی غزلوں کو جگجیت سنگھ نے اپنی آواز کے جادو سے پیش کیا ہے۔ گلزار ، اردو ، پنجابی ، بنگالی اور انگریزی ادب کے شیدائی ہیں اور ان زبانوں پر ان کو مکمل عبور بھی حاصل ہے جس کی واضح جھلک ان کے تخلیقی کاموں میں محسوس کی جا سکتی ہے۔ زندگی کے بارے میں گلزار کا فلسفہ بہت سادہ ہے ، ان کا اپنا قول ہے : حال ، ماضی کی پرچھائیوں کے بغیر نامکمل ہے !!