خدمت خلق اور اسلامی تصور


  • day
  • 2016-08-23
خدمت خلق اور رفاہ عامہ ایک ایسی وسیع اصطلاح ہے جس نے اپنے اندر بہت ساری خوبیوں کو سمو رکھا ہے۔ رفاہ عامہ دنیا کے ہر خطے میں الگ الگ انداز میں پائی جاتی رہی ہے۔ بہت ساری جگہوں پر تو صرف عوامی انداز میں غیر رسمی طریقے سے اس کا وجود ہے، لیکن آج کل اسکا تصور رسمی انداز میں بھی بیستر ملکو میں حکومی و غیر حکومی شکل میں پایا جاتا ہے۔ غیر حکومتی تنظیم (NGO) ایک ایسا ادارہ ہے جو ایک عوامی فلاح و بہبود کا پلیٹ فارم ہے۔ یہ ایک معروف اصطلاح بن چکی ہے۔جسے قانونی پہلو سے دیکھیں تو یہ ایک غیر سرکاری ادارہ ہے جسے ہر ہندوستانی کچھ قانونی شرائط کے ساتھ رجسٹرڈ کروا سکتا ہے۔ اس کی افادیت و ضرورت ہر زمانے میں مسلم رہی ہے۔ اسکی افادیت نہ صرف مغربی ممالک میں ہے بلکہ غیر ترقی یافتہ ممالک میں بھی یہ غیر معمولی افادیت کی حامل تحریک سمجھی جاتی ہے۔ آج کل ایسی بیشمار تحریکیں ہیں جو حکومت سے آزاد ہوکر بغیر کسی سرکاری امداد کے بھی رواں دواں ہیں اور زندگی کے مختلف پہلو پر سماج کے اندر بہت موثر انداز میں اپنی خدمات کا لوہا منوایا ہے اور حکومتوں کے لئے حد درجہ مفید ثابت ہوئی ہیں۔ جو کام اربوں کی لاگت سے ناممکن معلوم ہوتا ہے اسے انہوں نے فقط عوامی چندے سے عملاً ممکن ثابت کیا ہے۔ ہمارے ملک ہندوستان میں بھی اس قسم کے لاکھوں NGOچل رہے ہیں جنہوں نے سرکار کی بہت بڑی بڑی ذمہ داریوں کو بلا معاوضہ بخوبی نبھایا ہے ۔ تعلیم و صحت یا سماج کے دوسرے کاموں کا ذکر ہو، ہر میدان میں انہوں نے بیش بہا کارنامے انجام دیئے ہیں۔ خدمت خلق کا تصور اسلام نے چودہ سو برس قبل ہی نہ صرف دنیا کو اس کااحساس دلایا تھا بلکہ اس کو اسلام کی اہم تعلیمات کا حصہ بھی قرار دیاتھا۔ زکوٰۃ کا نظام ، پڑوسی کے حقوق اور سماج و معاشرے میں نہ صرف اپنے بلکہ غیروں کا خیال، انکی دادرسی و غم خواری بھی ایک بہت بڑا افادیت بھرا سماجی و رفاہی کام ہے جو کہ ہر مذھب میں کسی نہ کسی انداز میں ضرور موجود ہے لیکن اسلام نے ان مذکورہ بالا امور میں سے بعض چیزو کوں تو اسلام کے ارکان میں شامل کر رکھا ہے ۔ قرآن کریم میں’’ماسلککم في سقر‘‘ قالو لم نک من المصلین ولم نک نطعم المسکین: یہاں مذکورہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے جہنم میں جانے کا سبب نا صرف نماز کی عدم ادائیگی کو بتایا ہے بلکہ مسکینوں کو کھانا نہ کھلانے کو بھی ایک وجہ بتایا ہے اور ایک قابل ذکر چیز یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں پر ایک عام مسکین کا ذکر کیا ہے جس میں کسی مذہب و مسلک یا اپنے اور غیر کی تفریق نہیں کیاہے اوریہی اسلام کا آفاقی پیغام ہے ۔ ایک دوسری جگہ ’’وافعلواالخیر لعلکم تفلحون‘‘ اس آیت میں بھی اللہ نے خیر اور بھلائی کا حکم دیا ہے۔اس لمبی آیت میں نماز اورعبادت کے بعد خیر و بھلائی کاحکم دیا ہے۔ ایک تیسری جگہ قرآن کریم کے اندر اللہ تعالیٰ نے فرمایا’’واماالسائل فلا تنہر‘‘یہاایک عام بات کہی گئی ہے کہ ’’سائل کو نہ جھڑکو‘‘ کسی سائل (بھکاری) کو ڈانٹنے سے منع کیا گیاہے۔ دوسری بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ ان آیات میں کسی مسلک و مذہب و علاقائیت کا ذکر نہیں ہے بلکہ سماج میں ہر وہ فرد جو اس قسم کی بدنصیبی کا شکار ہو اس کا احترام اور اس کا خیال رکھنا ہمارے لئے ایک بڑی سماجی ذمہ داری ہے۔ اس کے علاوہ بھی بہت سارے مقامات پر اللہ نے ایسے انسانی کاموں کی نہ صرف ترغیب دلائی ہے بلکہ سخت انداز میں اوامر و نواہی کا حکم دیکر اس کے مثبت و منفی نتائج کو بھی واضح کیا ہے ۔ یہ رفاہی کام اور خدمت خلق انفرادی اور اجتماعی دونوں انداز میں ہو سکتا ہے لیکن افادیت کے پیش نظر اجتماعیت کے ساتھ کرنا زیادہ بہتر و موثر ہوتا ہے۔ یہ کوئی عارضی چیز نہیں ہے بلکہ یہ صدیوں پرانا کام ہے جو آج بھی جاری و ساری ہے۔ تعلیم وصحت کے میدان میں آج ہمارے سامنے ایک لمبا سفر ہے جو ہم طے کرکے اپنی ذمہ داری انجام دے سکتے ہیں اور نہ صرف اپنے مذہب بلکہ غیروں کی بھی مدد کرکے اپنا سماجی اور دینی فریضہ پورا کر سکتے ہیں۔ یاد رکھئے! اگر اسلام میں یہ خدمت خلق کاجذبہ نہ ہوتا توکفار و مشرک اسلام میں اس قدر تیزی سے داخل نہ ہوتے ۔ محمد بن قاسم کے فوجیوں کا وہ حسن سلوک تھا جس نے غیروں کو اپنا بنا لیا اور مکہ و مدینہ سے لاکھوں میل دور رہنے والے اربوں کی تعداد میں غیروں نے اسلام کو قبول کر لیا۔ مضمون نگار گریٹ انڈیا ویلفیئر فاؤنڈیشن کے چیر مین ہیں - See more at: http://www.asiatimes.co.in/urdu/%DA%A9%D8%A7_%D9%84%D9%85/2016/08/71446_#sthash.d3boE9ks.dpuf نوراللہ خان خدمت خلق اور رفاہ عامہ ایک ایسی وسیع اصطلاح ہے جس نے اپنے اندر بہت ساری خوبیوں کو سمو رکھا ہے۔ رفاہ عامہ دنیا کے ہر خطے میں الگ الگ انداز میں پائی جاتی رہی ہے۔ بہت ساری جگہوں پر تو صرف عوامی انداز میں غیر رسمی طریقے سے اس کا وجود ہے، لیکن آج کل اسکا تصور رسمی انداز میں بھی بیستر ملکو میں حکومی و غیر حکومی شکل میں پایا جاتا ہے۔ غیر حکومتی تنظیم (NGO) ایک ایسا ادارہ ہے جو ایک عوامی فلاح و بہبود کا پلیٹ فارم ہے۔ یہ ایک معروف اصطلاح بن چکی ہے۔جسے قانونی پہلو سے دیکھیں تو یہ ایک غیر سرکاری ادارہ ہے جسے ہر ہندوستانی کچھ قانونی شرائط کے ساتھ رجسٹرڈ کروا سکتا ہے۔ اس کی افادیت و ضرورت ہر زمانے میں مسلم رہی ہے۔ اسکی افادیت نہ صرف مغربی ممالک میں ہے بلکہ غیر ترقی یافتہ ممالک میں بھی یہ غیر معمولی افادیت کی حامل تحریک سمجھی جاتی ہے۔ آج کل ایسی بیشمار تحریکیں ہیں جو حکومت سے آزاد ہوکر بغیر کسی سرکاری امداد کے بھی رواں دواں ہیں اور زندگی کے مختلف پہلو پر سماج کے اندر بہت موثر انداز میں اپنی خدمات کا لوہا منوایا ہے اور حکومتوں کے لئے حد درجہ مفید ثابت ہوئی ہیں۔ جو کام اربوں کی لاگت سے ناممکن معلوم ہوتا ہے اسے انہوں نے فقط عوامی چندے سے عملاً ممکن ثابت کیا ہے۔ ہمارے ملک ہندوستان میں بھی اس قسم کے لاکھوں NGOچل رہے ہیں جنہوں نے سرکار کی بہت بڑی بڑی ذمہ داریوں کو بلا معاوضہ بخوبی نبھایا ہے ۔ تعلیم و صحت یا سماج کے دوسرے کاموں کا ذکر ہو، ہر میدان میں انہوں نے بیش بہا کارنامے انجام دیئے ہیں۔ خدمت خلق کا تصور اسلام نے چودہ سو برس قبل ہی نہ صرف دنیا کو اس کااحساس دلایا تھا بلکہ اس کو اسلام کی اہم تعلیمات کا حصہ بھی قرار دیاتھا۔ زکوٰۃ کا نظام ، پڑوسی کے حقوق اور سماج و معاشرے میں نہ صرف اپنے بلکہ غیروں کا خیال، انکی دادرسی و غم خواری بھی ایک بہت بڑا افادیت بھرا سماجی و رفاہی کام ہے جو کہ ہر مذھب میں کسی نہ کسی انداز میں ضرور موجود ہے لیکن اسلام نے ان مذکورہ بالا امور میں سے بعض چیزو کوں تو اسلام کے ارکان میں شامل کر رکھا ہے ۔ قرآن کریم میں’’ماسلککم في سقر‘‘ قالو لم نک من المصلین ولم نک نطعم المسکین: یہاں مذکورہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے جہنم میں جانے کا سبب نا صرف نماز کی عدم ادائیگی کو بتایا ہے بلکہ مسکینوں کو کھانا نہ کھلانے کو بھی ایک وجہ بتایا ہے اور ایک قابل ذکر چیز یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں پر ایک عام مسکین کا ذکر کیا ہے جس میں کسی مذہب و مسلک یا اپنے اور غیر کی تفریق نہیں کیاہے اوریہی اسلام کا آفاقی پیغام ہے ۔ ایک دوسری جگہ ’’وافعلواالخیر لعلکم تفلحون‘‘ اس آیت میں بھی اللہ نے خیر اور بھلائی کا حکم دیا ہے۔اس لمبی آیت میں نماز اورعبادت کے بعد خیر و بھلائی کاحکم دیا ہے۔ ایک تیسری جگہ قرآن کریم کے اندر اللہ تعالیٰ نے فرمایا’’واماالسائل فلا تنہر‘‘یہاایک عام بات کہی گئی ہے کہ ’’سائل کو نہ جھڑکو‘‘ کسی سائل (بھکاری) کو ڈانٹنے سے منع کیا گیاہے۔ دوسری بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ ان آیات میں کسی مسلک و مذہب و علاقائیت کا ذکر نہیں ہے بلکہ سماج میں ہر وہ فرد جو اس قسم کی بدنصیبی کا شکار ہو اس کا احترام اور اس کا خیال رکھنا ہمارے لئے ایک بڑی سماجی ذمہ داری ہے۔ اس کے علاوہ بھی بہت سارے مقامات پر اللہ نے ایسے انسانی کاموں کی نہ صرف ترغیب دلائی ہے بلکہ سخت انداز میں اوامر و نواہی کا حکم دیکر اس کے مثبت و منفی نتائج کو بھی واضح کیا ہے ۔ یہ رفاہی کام اور خدمت خلق انفرادی اور اجتماعی دونوں انداز میں ہو سکتا ہے لیکن افادیت کے پیش نظر اجتماعیت کے ساتھ کرنا زیادہ بہتر و موثر ہوتا ہے۔ یہ کوئی عارضی چیز نہیں ہے بلکہ یہ صدیوں پرانا کام ہے جو آج بھی جاری و ساری ہے۔ تعلیم وصحت کے میدان میں آج ہمارے سامنے ایک لمبا سفر ہے جو ہم طے کرکے اپنی ذمہ داری انجام دے سکتے ہیں اور نہ صرف اپنے مذہب بلکہ غیروں کی بھی مدد کرکے اپنا سماجی اور دینی فریضہ پورا کر سکتے ہیں۔ یاد رکھئے! اگر اسلام میں یہ خدمت خلق کاجذبہ نہ ہوتا توکفار و مشرک اسلام میں اس قدر تیزی سے داخل نہ ہوتے ۔ محمد بن قاسم کے فوجیوں کا وہ حسن سلوک تھا جس نے غیروں کو اپنا بنا لیا اور مکہ و مدینہ سے لاکھوں میل دور رہنے والے اربوں کی تعداد میں غیروں نے اسلام کو قبول کر لیا۔