عرض صبا۔۔صباممتاز بانو


  • اتوار
  • 2018-09-09
کھنڈ بھڑولی۔ فیاض قرشی صاحب پنجابی کے بہت بڑے شاعر ہیں۔ ان کا کلام تصوف اور روحانیت سے بھرپور ہے۔ ان کے الفاظ کی ساحری میں تصوف کی چاشنی ہے جس کی وجہ سے وہ سیدھا قاری کے دل میں جااترتے ہیں۔ فیاض قرشی صاحب ہر دور کے شاعر ہیں۔ کیونکہ ان کی شاعری کا پیغام آفاقی ہے۔ وہ انسانیت سے محبت پر یقین رکھتے ہیں۔ اسی بات کو محور بنا کر اپنی شاعری کا تانا بانا بنتے ہیں۔ صوفی شاعر فیاض قرشی صاحب الفاظ کو باندھنے سے پہلے ان کو عشق رب سے بگھوتے ہیں۔ان کی شاعری میں اسی لیے مسیحائی ہے۔فیاض قرشی صاحب پیشے کے اعتبار سے مکینکل انجینئر ہیں۔انہوں نے اپنے عشق رب کی وجہ سے ہی پاکستان کی بجائے ملازمت کے لیے جدہ کو ترجیح دی۔ اب وہ جدہ سے پاکستاں تو آتے جاتے رہتے ہیں لیکن ان کا مستقل قیام جد ہ میں ہی ہے۔ ان کاسرزمین رب پر قیام کرنا کوئی اتفاقی واقعہ نہ تھا۔یہ فیصلہ انہوں نے شعوری طور پر کیا تھا اور اس پر وہ آج بھی مطمئن ہیں۔ ان کی فیملی بھی وہیں پر سکونت پذیر ہے۔ ایک بیٹا پاکستان میں ہے۔ وطن اور بیٹے کی محبت میں پاکستان آنا جانا لگا رہتا ہے۔وطن سے محبت ان کے خمیر میں شامل ہے۔ یہ ان کی شاعری میں بھی جھلکتی ہے۔ ان کی شاعری میں شیطانیت سے نفرت اور یکتائی سے محبت کا درس ملتا ہے۔ وہ کسی قسم کے تعصبات کو رواج دینے کے قائل نہیں۔انہوں نے اپنی شاعری کو روایتی اوزان کے ترازومیں تولنے کی بجائے اسے گاکر، سر لگا کر،گداپاکے یا طبلے کی دھاپ پر اپنے کلام کو سیدھا کیا ہے۔ ان کی شاعری منفرد ہے کیونکہ اس میں صوفیانہ رنگ چھلکتا ہے اور وہ اس کا وزن موسیقی کے آلات سے پورا کرتے ہیں۔اسے گنگنا کر تولتے ہیں۔ ان کی گائیکی کا کلام عنائیت حسین بھٹی صاحب سے بہت ملتا جلتا ہے۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وہ بھی صوفیانہ اور درویشانہ مزاج رکھتے ہیں۔پنجاب کی یہ شان ہے کہ یہاں بہت سے گیانی شاعروں نے جنم لیا۔ جن میں ایک لمبی فہرست ہے، اس میں اب ایک نام اور بھی درخشاں ہے اور وہ ہے فیاض قرشی صاحب کا۔ ان کے اندر کی سچائیاں جب شعروں کی صورت میں باہر آتی ہیں تو سننے والوں کو سر دھننے اور مست ملنگ بننے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ یہ ان کا بڑا پن ہے کہ وہ لب ورخسار کی باتیں کرنے کی بجائے اللہ ھو کی تان لگاتے ہیں اور سب کو اس میں بہا کر لے جاتے ہیں۔وہ بے راہروی کے پینڈے پر نہ تو خود ہیں اور نہ ہی اپنے پڑھنے والوں کو ڈالتے ہیں۔ اگر وہ کسی کے سر پر بھی اپنی شاعری کی دستار فضیلت باندھ دیں تو اسے اس پر مان ہی ہو گا کیونکہ فیاض قرشی صاحب کی شاعری عام باتوں سے بے نیاز ہے۔ یہ تو اندر کے راز کھولتی ہے۔ یہ تو دل کے نہاں خانوں تک پہنچنے اور اپنے ہی من میں جھانکنے کا راستہ بناتی ہے۔ یہ بندے کو سب سے پہلے عرفان ذات بخشتی ہے۔ فیاض صاحب سچ کے سفر میں ہیں۔ سچ کا سفر ہمیشہ ہی لمبا ہو تا ہے۔ اس میں کٹھنائیاں بھی ہو تی ہیں۔ لیکن اس میں ضمیر کی کو ئی خلش نہیں ہوتی۔ یہ سکون سے نکلتا ہے اور راحتوں پر جاکر اختتام پذیر ہو تا ہے۔ فیاض صاحب کی سوچ میں منافقت نہیں۔ وہ سچے اور کھرے بندے ہیں۔ وہ عبادت کرنے سے پہلے اس میں خلوص کی سچائی ملانے پر یقین رکھتے ہیں۔ ان سے جب کسی نے پوچھا کہ انہوں نے شاعری کب شروع کی تو ا نہوں نے اس کا بڑا سادہ سا جواب دیا کہ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ شاعری انسان کے دل کی آواز ہوتی ہے اور یہ اس کے اندر سے نکلتی ہے۔ یہ خدادا د صلاحیت ہے اور فطرت جسے بخشتی ہے۔ وہ پیدائشی طور پر ہی اس کا شغف رکھتا ہے۔ فیاض قرشی صاحب نے سیالکوٹ ڈسکے کے ایک پنڈجامکے چیمیاں میں جنم لیا۔ ان کی شاعری کا آغاز بچپن سے ہوا اور پھر آج تک ان کے ساتھ چل رہا ہے۔ ان کو شاعری کو سروں کی مالا پہنانے کا شوق تھا۔ اس لیے ان کی شاعری کے رنگ اس وقت اور بھی کھلتے ہیں جب وہ گا کر سناتے ہیں اور میلہ لوٹ لیتے ہیں۔ ان کے مداحین میں بڑی تعداد ان کے گانے کی بھی ہے۔ انہوں نے لاہور سے متعلق گانا گایا اور فلمایا بھی۔ پھر اس میں کام بھی کیا۔ یہ ایک ہٹ گیت تھا جس نے ان کو شہرت بھی دی۔آج بھی یہ گیت کئی پرائیوٹ چینلز پر لگایا جاتا ہے۔ ویکھو لاہور دے نظارے جہیدے وکھرے نیں رنگ ۔مایا والے دین دیگاں، موجاں ماردے نیں ملنگ۔ ملازمت اور پاکستان سے دوری کی وجہ سے وہ ویڈیو ز پر تو مزید کام نہ کرسکے لیکن شاعری ان کے ساتھ ساتھ چلتی رہی۔ اس گیت سے ان کو اتنی شہرت حاصل ہوئی کہ کئی ٹی وی چینلز پر ان کے متعدد انٹرویوز کیے گئے۔پرنٹ میڈیا نے بھی ان کو کوریج دی۔ وہ عوامی سطح پر مقبول ہوئے۔ان کے حلقہ احباب میں طاہر جمیل صاحب کا نام نمایاں رہا۔ جن سے انہوں نے فیض حاصل کیا۔ ان کی سنگت میں ان کی شاعری میں مزید نکھار آگیا۔ تیری جب یاد آتی ہے تو بن گلزار ہوتے ہیں میں آنکھیں بند کرتا ہوں، تیرے دیدار ہوتے ہیں۔ طاہر جمیل صاحب سے ان کا سفر چلتا چلتا شیخوپورہ کے محمد الیاس صاحب تک جا پہنچا۔فیاض صاحب محمد الیاس صاحب کو بھی اپنی بے مثل شاعری کا سبب گردانتے ہیں۔ ان کے نزدیک ان کے فیض نے ان کی شاعری کو اس سطح تک پہنچایا جہاں ایک انسان آرزو کرسکتا ہے۔ الیاس صاحب ایسی نابغہ روزگار ہستی تھے کہ ان کو صوفی شعرا بابا بلھے شاہ، بابا فرید،وارث شاہ،میاں محمد بخش اور بہت سارے بزرگوں کا کا کلام حرف بحرف یادتھا۔ ان کی صحبت میں ان کے اندر پنجابی لکھنے کا شوق پیدا ہوا اور انہوں نے اللہ سے عرضی ڈالی کہ ان کے اندر بھی پنجابی لکھنے کی صلاحیت پیدا ہو۔ اللہ نے ان کی سن لی اور ان کا شوق تکمیل پاگیا۔ پنجابی شاعری ان کے اندر سے پھوٹنے لگی اور وہ ایک پنجابی شاعر کی حیثیت سے سامنے آئے۔ ان کی شاعری بھی بابا بلھے شاہ، بابا فرید اور صوفی شعرا کا تسلسل ہے۔ وہ بوالہوسی کی داستانیں بیان نہیں کرتے۔ وہ مظاہر فطرت میں ایک ہی روپ دیکھتے ہیں اور وہ خدا کا ہے۔خدا کی اس بنائی سلطنت پر وہ انسان راج کو اس کی دین خیال کرتے ہوئے انسانوں کو ایک دوسرے کا رفیق سمجھتے ہیں۔ان کی شاعری کا کمال یہ ہے کہ ان کی شاعری میں ان کی اپنی چھاپ ہے۔ کسی کی نقل یا رنگ نظر نہیں آتا ہے۔ فیاض قرشی صاحب نے دنیا بھر کا سفر کیا ہے۔ وہ پنجابی کی طرف مائل ہو نے پر خود حیران ہو تے ہیں کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ نہ تومیں نے پنجابی پڑھی اور نہ ہی میرا پنجابی سے کوئی خاص تعلق رہا۔ مگر اس کے باوجود پنجابی شاعری کرنے کو میں خدا کا خاص فضل وکرم ہی کہوں گا۔ چھڈ دے جگ دا گورکھ دھنداجگ نے کم نئیں آنا کل نوں مورکھ کہیڑے عملاں اوہدی عدلیں جانا اج دے لائے رکھ داپھل جھولی تیری آنا وہ انسان کو اپنے اعمال کی درستگی پر غور دیتے ہوئے اسے صراط مستقیم کا راستہ دکھاتے ہیں۔وہ نیکی کے پھلوں کو کمانے پر زور دیتے ہیں۔ جس شجر تھیں پھل پُھل آوے، وچھدا جاوے زمینے مارلیاجنہاں میں نوں،قرشی لے گئے پار سفینے اس شعر میں کتنی خوب صورتی سے وہ انسان کو اپنی میں یعنی اناکے مارنے کی طرف مائل کرتے اور اسے کامیابی کا زینہ قرار دیتے ہیں۔ نبی ص کی شان میں وہ اس طرح مدح سرائی کرتے ہیں کہ بشر وی اوہا، نور وی اوہا، جانے کُل خدائی جس نے سارے نبیاں توں سوہنی شان اولڑی پائی۔ فیاض قرشی صاحب پنجابی کے عظیم شاعرہیں۔ ان کی شاعری کو سمجھنے کے لیے دل میں روحانیت کی لو کا جلنا ضروری ہے۔ ان کا تصوف دماغ کی ریاضت ہی نہیں، دل بھی سوز مانگتا ہے۔ یہ سوز ہر مسلمان کے نصیب میں کہاں؟۔ فیاض قرشی صاحب قسمت والے ہیں کہ اللہ نے ان کو اس سوز سے نوازا۔ انہوں نے اس کو اپنی شاعری میں سمویا اور الفاظ کے نگینوں میں سمو کرہمارے سامنے پیش کردیا۔