عنوان کفن کے بغیر تحریر عظیم بٹ


  • جعمرات
  • 2018-08-16
عنوان کفن کے بغیر کالم نظریہ ضرورت تحریر عظیم بٹ الیکشن کی گہما گہمی کا دور مکمل ہوتے ہی عوام کے سامنے ایسے ایسے نمونے نمودار ہو رہے ہیں جنہوں نے عوام کی فلاح کے لئے کام کرنا ہے مگر ابھی ان کی فلاح پر کام ہونا باقی ہے پنجاب اسمبلی میں حلف برداری کی تقریب میں جانے کا موقع ملا تو میں عوامی نمائندوں کی تہذیب و تمیز دیکھ کر یہ سوچنے لگا کہ انتخابات کے مہم کے دوران یہ لوگ اپنی اصلیت کی میت ایسے عوام کے سامنے پیش کر کے مہذب معاشرے کی مثالیں دیتے تھے مگر یہ وہ اشرافیہ ہے جس کی میت میں بھی کفن نہ ہونے کے باعث ان کی اوقات چھپ نہیں پاتی ان کو ہم اپنی قانون سازی کے لئے منتخب کر بیٹھے ہیں پنجاب میں متوقع حکومت اور وفاق میں سب سے زیادہ نشستیں لینے والی تبدیلی کی دعویٰ دار سیاسی جماعت تحریک انصاف کو ہمیشہ سے اوئے اور تُو تراک کی سیاست کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا رہا ہے اور اس کی وجہ عمران خان کی گفتگو تھی جس کے نشتر ہر سیاست دان نے سہے چاہے وہ اس کا حق دار تھا یا نہیں مگر سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کے بعد اکثریتی جماعت کے متوقع وزیراعظم عمران خان نے جب اپنی جیت کی خوشی میں عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے گفتگو کی تو سب حیران تھے کہ یہ شخص جو سول نافرمانی کی ترغیبیں عوام کو دیتا تھا جس نے کسی کی عزت کی شلوار اتارنے میں ہچکچاہٹ نہیں سمجھی اور معاشرے کو ایک ایسی سیاست سے آشنا کروا دیا جہاں سب تمیز سے بالاتر تھے آج اتنی شائستگی بھری سنجیدہ گفتگو کیسے کر گیا اور مخالفوں نے اس کے بعد کی پریس کانفرنسوں میں جہاں انتخابات کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے تنقید کا سلسلہ شروع کیا وہ بھی عمران خان کی اس گفتگو پر تنقید تو دور بلکہ تعریف کرتے دکھائی دئیے مگرمجھے پنجاب اسمبلی میں آئے نمائندوں اور ان کے چمچوں کی بیہودگی دیکھ کر اندازہ ہوا کہ تقریر کا اثر صرف مخالفوں پر ہی پڑا ہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف سے وابستہ افراد نے اپنے لیڈر کی تقریر اور اس میں کہی باتوں کو بہت غیر سنجیدگی سے لیا ہے شاید کارکنانِ تحریک انصاف کی سوچ یہ ہے کہ نظریہ ضرورت کی بنیاد پر خان صاحب نے شائشتگی کا مظاہرہ کیا ہے وگرنہ وہی بد تہزیبی والی سیاست کے ہی خان صاحب قائل ہیں جس کی تعلیمات انہوں نے ہمیں دیں ہیں قصہ مختصراً یہ کہ تحریک انصاف کے کارکنان کا ایک 15 سے 20 رکنی بے حیاء گروہ پنجاب اسمبلی کے احاطے میں مختلف تحریک انصاف کے ممبران کے ساتھ داخل ہوا اور پاکستان مسلم لیگ ن کے آنے والے۔ ممبران میں اس بات کی بھی تمیز کئے بغیر کہ کون خاتون اور کون مرد ہے باآواز بلند گھٹیا انداز میں چور ڈاکو اور مختلف بیہودہ نعرے لگاتا رہا جبکہ مسلم لیگ ن کی سرگرم رکن عظمٰی بخاری کو دھکے بھی دئیے گئے اور صحافیوں سے گفتگو کے دوران ان کو چور اور مختلف القابات سے نوازہ گیا میں اس کشمکش میں رہا کہ یہ سستی شہرت حاصل کرنے کا طریقہ ہے یا اپنے لیڈر کی تعلیمات کو اجاگر کرنے کا! البتہ اس تمام تر صورتحال میں افسوس تحریک انصاف پر اس بات کا تھا کہ تحریک انصاف کہ بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ وہ پڑھے لکھے طبقے کی نمائندگی کرتی ہے اور تبدیلی کی دعویٰ دار ہے نواز لیگ سے ہمیں امید نہیں کیونکہ 35 سال سے ہم ان کی سیاست سے آشنا ہیں ان کی طرز سیاست اور گفتگو سے واقف ہیں ان سے شکوہ شکایات کا جواز نہیں اور تحریک انصاف کو جو ذمہ داری عوام نے سونپی ہے اب ان کو اس بات سے بالاتر ہو کر کے کون کس پارٹی کا نمائندہ یا چاہنے والا ہے عوامی اور ملکی مفاد میں مشترکہ طور ہر آگے بڑھنا چائیے نا کہ اس مثال کا نمونہ پیش کرنا چائیے کہ نئے نئے امیر ہوئے کی غیر سنجیدہ حرکات اس کے ماضی کا قصہ چینخ چینخ کر سناتی ہیں لہذا اب اقتدار ملنے کی خوشی کو سر ہر س…