بھارتی آرمی چیف جنرل دلبیر سنگھ نے ہندوستانی فوج کے سابق سربراہ اور مودی حکومت کے مرکزی وزیر کے خلاف سنگین ترین الزامات عائد کر دیئے


  • day
  • 2016-08-19
بھارتی آرمی چیف جنرل دلبیر سنگھ اپنے سابق فوجی سربراہ کے خلاف لنگوٹ کس کر میدان میں آ گئے ،جنرل دلبیر سنگھ نے مودی حکومت کے مرکزی وزیر اور ہندوستانی فوج کے سابق سربراہ جنرل(ر)وجے کمار سنگھ پر سنگین ترین الزام عائد کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں تحریری حلف نامہ جمع کرا دیا ہے ۔ معروف بھارتی نجی چینل ’’این ڈی ٹی وی ‘‘ کے مطابق انڈیا کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل دلبیر سنگھ نے انڈیا کے سابق فوجی سربراہ اور مودی حکومت کے مرکزی وزیر جنرل(ر)وی کے سنگھ کے خلاف بھارتی سپریم کورٹ میں حلف نامہ جمع کرایا ہے جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ جنرل (ر) کے سنگھ نے بطور آرمی چیف میرے خلاف سازش کی تاکہ میں فوج کا سربراہ نہ بن سکوں ،آرمی چیف ہوتے ہوئے انہوں نے پر اسرار طور پر بد نیتی پر مبنی اور من مانے طریقے سے مجھے سزا دینے کے لئے میری پرموشن روکنے کی کوشش کی ،جنرل (ر) وی کے سنگھ آرمی چیف رہتے ہوئے میرے خلاف مسلسل سازشیں کرتے رہے تاکہ میں کسی صورت بھی آرمی کی کمانڈ نہ سنبھال سکوں ۔جنرل دلبیر سنگھ نے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے حلف نامے میں کہا ہے کہ وزارت دفاع کی تحقیقات میں بھی یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ جنرل(ر)وی کے سنگھ کے مجھ پر لگائے گئے تمام الزامات بے بنیا د تھے۔واضح رہے کہ جنرل دلبیر سنگھ نے یکم اگست 2014ء کو جنرل بکرم سنگھ کے ریٹائر ہونے پر بھارتی فوج کی کمانڈ سنبھالی تھی ،اس سے قبل جنرل(ر) وی کے سنگھ نے بطور آرمی چیف اپنی مدت کے اختتام سے قبل 2012ء میں جب جنرل دلبیر سنگھ تھری کور کے کمانڈر تھے تب انٹیلی جنس یونٹ پر کمان اینڈ کنٹرول میں ناکام رہنے پر پابندی عائد کر دی تھی،جنرل وجے کمار سنگھ کے ریٹائر ہونے پر نئے بھارتی فوجی سربراہ جنرل بکرم سنگھ نے کمانڈ سنبھالتے ساتھ ہی جنرل دلبیر سنگھ پر عائد پابندی ہٹاتے ہوئے انہیں مشرقی فوج کا کمانڈر مقرر کر دیا تھا ۔یاد رہے کہ جنرل (ر) وی کے سنگھ اس وقت بی جے پی حکومت میں نریندر مودی کے اہم ساتھی اور مرکزی وزیر کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں ۔